0
Tuesday 3 Sep 2019 07:58

مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر و دیہات میں بھارت کیخلاف مزاحمت جاری ہے، مسعود خان

مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر و دیہات میں بھارت کیخلاف مزاحمت جاری ہے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بین الاقوامی برادری کو اب یہ طے کرنا ہو گا کہ وہ ظالم کے ساتھ ہیں یا مظلوم کے ساتھ، قانون کے ساتھ ہے یا جارجیت کے ساتھ ہے۔ بھارت تمام بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اقدار کو پامال کر کے کشمیر میں نسل کشی کی پالیسی پر گامزن ہے اور سکارچڈ ارتھ پالیسی کے تحت نہ صرف کشمیریوں کو تہہ و تیغ کر رہا ہے بلکہ ان کی جائیدادوں، رہائشی مکانات، کاروبار اور خوراک کے ذخائر کو بھی تباہ و برباد کر رہا ہے تاکہ کشمیریوں کو فاقہ کشی سے دوچار کر کے اپنی غلامی قبول کرنے پر مجبور کر سکے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں سنٹر فار پیس، سکیورٹی اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیراہتمام کشمیر بحران پر قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے سینیٹر شیری رحمان اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) آغا عمر فاروق نے بھی خطاب کیا۔ جبکہ اس موقع پر سابق چیف آف ائیر سٹاف سہیل امان، لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ ) آصف یاسمین ملک، سابق سفیر عارف کمال، سابق سفیر عبد الباسط اور کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین حسین وانی بھی موجود تھے۔

صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی قابض فوج پرامن شہریوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے جبکہ مقبوضہ ریاست کی متنازعہ حیثیت ختم کر کے اسے بھارتی یونین کا حصہ بنانے کے اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیو اور میڈیا سنسر شپ نافذ ہے جس کے باعث وہاں پر مظالم اور نسل کشی کی اصل صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ تاہم جو اطلاعات آ رہی ہیں وہ رونگٹے کھڑی کر دینے والی ہیں لیکن اس کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے ہر شہر و دیہات میں مزاحمت جاری ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیری بھارت کی غلامی کسی صورت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھارت اور پاکستان کے درمیان مصنوعی توازن قائم رکھنے کی پالیسی ترک کر دے، حق و انصاف کی بنیاد اور عالمگیر انسانی قدروں اور بین الاقوامی قانون کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کو جانچے اور اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرے۔

سردار مسعود نے کہا کہ بھارتی آئین کی دفعہ 35 ۔ اے کو ختم کر کے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو عملاً ایک کالونی میں تبدیل کر دیا ہے اور مودی کی انتہاء پسند حکومت کا یہ اقدام نہ صرف بھارت کی نو آبادیاتی سامراج سے آزادی کی جدوجہد کی نفی ہے بلکہ نہرو اور گاندھی کے نظریات سے بھی مکمل انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کے علاوہ ایک لاکھ اسی ہزار تازہ دم فوج کے ساتھ کشمیر پر حملہ کر کے وہاں کی زمین پر قبضہ کرنے اور کشمیریوں کو ان کی اپنی دھرتی سے بے دخل کرنے کی شیطانی چال چلی ہے جو انشاء اللہ کامیاب نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام اور ریاست پاکستان کے شکرگزار ہیں جنہوں نے بھارت کے ساتھ تجارتی، سفارتی اور ثقافتی تعلقات محدود کرنے کے علاوہ دنیا بھر میں کشمیریوں کی آواز موثر انداز میں اٹھا کر یہ پیغام دیا ہے کہ مشکل کی اس گھڑی میں کشمیری تنہا نہیں بلکہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اکیسویں صدی کا ہٹلر قرار دیتے ہوئے سردار مسعود خان نے کہا کہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہندو انتہاء پسندی اور ہندو برتری کے نظریے کا شاخسانہ ہے جو نئی صدی کا نازی ازم اور فاشزم ہے جس کے خلاف امن پسند دنیا کو مل کر لڑنا ہو گا۔ سرداد مسعود خان نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں جن میں مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کا نعرہ بلند کرنے والوں کا قتل عام، پاکستان کو کھلے عام جنگ کی دھمکیاں اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان کے اندر پراکسی وار کے علاوہ پاکستان کے خلاف جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو کسی دوسرے آزاد اور خودمختار ملک کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی کھلے عام دھمکیاں دے رہا ہے جس کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے۔
خبر کا کوڈ : 814167
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب