0
Tuesday 3 Sep 2019 23:28

پاور سیکٹر میں کسی کو رعایت نہیں دی جا رہی، وزیر توانائی عمر ایوب

پاور سیکٹر میں کسی کو رعایت نہیں دی جا رہی، وزیر توانائی عمر ایوب
اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب کا کہنا ہے کہ کسی سیکٹر میں کسی کو رعایت نہیں دی جا رہی، پاور سیکٹر میں رعایت دینے کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، وفاقی وزیر برائے توانائی عمرایوب اور معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور کابینہ اجلاس کے حوالے سے میڈیا بریفنگ دی۔ معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کابینہ کو کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا اور بتایا کہ دنیا بھر میں سفارتی محاذ پر مودی کے موقف کو شکست ہوئی اور مودی کی اپنی کابینہ نے اپنی ہی حکومت کے اقدام کی مذمت کی۔ فردوس عاشق نے کہا ہے کہ وزیراعظم کشمیر کے سفیر بن کر اس مسئلے کو اجاگر کر رہے ہیں، ہم نے بھارتی مظالم کو ہر فورم پر اْٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، جب تک کشمیریوں کا انکا جمہوری آئینی حق نہیں ملتا ہم کھڑے رہیں گے۔

وفاقی وزیر پاور ڈو یژن عمر ایوب کا کہنا تھا کہ کسی سیکٹر میں کسی کو بھی رعایت نہیں دی جا رہی، پاور سیکٹر میں رعایت دینے کے حوالے سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وزیراعظم نے شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ جی آئی ڈی سی کوئی نئی چیز نہیں، 2011ء کی حکومت نے ایران پاکستان گیس پائپ لائن کی وجہ سے جی آئی ڈی سی لگایا اور2017ء کی حکومت نے سی این جی سیکٹر پر اس حوالے سے معاہدہ کیا، جی آئی ڈی سی کی مد میں 217 ارب روپے جمع ہوئے تاہم سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر روک دیا کہ جس مقصد کے لیے پیشہ جمع ہو رہا ہے اس پر لگ نہیں رہا۔ عمرایوب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہمارے پاس دو راستے تھے کہ معاملہ کورٹ میں چلتا رہے یا حل نکالا جائے، ہم چاہتے تھے کہ  جی آئی ڈی سی کا مسئلہ حل ہو، پرانے معاملات ختم کرکے ریٹ کم کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملے۔ سابق وزیرخزانہ اسد عمر نے اس معاملے کا آغاز کیا۔ جی آئی ڈی سی میں 15 ارب روپے جمع ہوتا ہے، ہمیں فائدہ یہ ہوگا کہ ہم اس کو 45 ارب تک لے جائیں گے۔

معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی کو ختم کرنا چاہتی ہے، ٹیرف میں جی آئی ڈی سی شامل کرنے والی بجلی کمپنیوں اور جو کمپنیاں کھاد کی قیمت میں جی آئی ڈی سی وصول کر رہی ہیں ان کو چھوٹ نہیں ملے گی، یہ ہماری کوتاہی ہے کہ قوم کو تفصیل سے آگاہ نہیں کر سکے۔ ندیم بابر نے کہا کہ آرڈیننس کہتا ہے جو کمپنیاں چھوٹ حاصل کرنا چاہتی ہیں وہ حکومت کے ساتھ معاہدہ کریں، لیکن یہ کابینہ کے فیصلے میں شامل تھا کہ جب تک آڈٹ نہیں ہوگا معاہدہ نہیں کیا جائے گا، کابینہ کا فیصلہ تھا کہ کمپنیوں کا فارنزک آڈٹ کیا جائے اس کے مطابق فیصلہ ہو، اگلے چند دن میں آرڈیننس میں فارنزک آڈٹ شامل کردیا جائے گا، وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ آرڈیننس میں ترمیم کرکے فارنزک آڈٹ کی شق شامل کی جائے، جی آئی ڈی سی کا بوجھ اگر عوام پر منتقل ہوا ہے تو وہ کمپنیوں سے وصول کیا جائے گا۔

ندیم بابر نے بتایا کہ میں دو آئی پی پیز کے ساتھ منسلک رہا ہوں، میں اورینٹ پاور میں شیئر ہولڈر ہوں، 2014ء میں وہ کمپنی ایل این جی پر شفٹ ہوگئی، میری کمپنی نے جی آئی ڈی سی کی مد میں 28 ملین زائد دیئے، سارے لوگ اس آپشن کو استعمال کرتےہ یں تو ہمیں 150 سے 160 ارب روپے مل جائیں گے۔
خبر کا کوڈ : 814339
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے