0
Wednesday 4 Sep 2019 14:45

یورپ نے جوہری معاہدے کی حفاظت کیخاطر آج تک کوئی خطرہ مول لینے کی کوشش نہیں کی، جواد ظریف

یورپ نے جوہری معاہدے کی حفاظت کیخاطر آج تک کوئی خطرہ مول لینے کی کوشش نہیں کی، جواد ظریف
اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے گذشتہ روز ایک روسی نیوز چینل "رشیا ٹوڈے" کو انٹرویو دیتے ہوئے اس سوال کے جواب میں کہ کیا "ایرانی جوہری معاہدہ" ختم ہوچکا ہے, کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں, کیونکہ میرا ایمان ہے کہ جوہری معاہدہ سفارتکاری کا ایک شاہکار ہے, جبکہ اس کے خاتمے کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے. محمد جواد ظریف نے جوہری معاہدے پر یورپی ممالک کیطرف سے بدترین کارکردگی پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مغربی ممالک جس معاہدے کا دم بھرتے ہیں، اس کے مطابق ایک پائی بھی خرچ نہیں کر پائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے کی حمایت کا دم تو بھرتے ہیں لیکن اسکی حفاظت کیلئے کسی قسم کا خطرہ مول لینے کو یا اس پر سرمایہ گزاری کرنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے میری یہ بات صرف یورپی ممالک کیلئے ہے، کیونکہ روس اور چین کیساتھ (جوہری معاہدے کے شرکاء کے طور پر) ہمارے اچھے اقتصادی تعلقات استوار ہیں، البتہ امریکہ نے ان دونوں ممالک پر بھی اثرانداز ہونیکی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی امریکی پابندیاں، جنہیں میں اقتصادی دہشتگردی قرار دیتا ہوں، نے چین اور روس کو بھی متاثر کیا ہے، درحالیکہ یورپی ممالک جوہری معاہدے پر کسی قسم کی سرمایہ گزاری کرنے کے موڈ میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی ممالک اپنے "معاہدوں" پر عملدرآمد کرتے ہیں یا نہیں، یہ بات اپنی جگہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی و فرانسیسی سفارتی وفود کی بات چیت کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد یہ تھا کہ وہ (فرانسیسی) یہ جان سکیں کہ اپنے معاہدوں پر وہ کیسے عملدرآمد کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں جوہری معاہدے پر دوبارہ سے مذاکرات یا نظرثانی کرنا مقصود نہیں تھا بلکہ ان مذاکرات کا موضوع جوہری معاہدے کو عملی شکل دینے سے متعلق تھا۔ انہوں نے یورپی ممالک کے درمیان موجود، امریکی مفاد کے خلاف، جوہری معاہدے پر عملدرآمد کرنیکی خواہش کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ وہی کام ہے، جو انہیں انجام دے دینا چاہیئے جبکہ یہ بات کہ وہ کیسے اس کام کو انجام دیں، امریکہ کا مقابلہ کریں یا اُسے قائل کریں، وہ خود بہتر جانتے ہیں۔ میرے خیال میں امریکی قائل ہونیوالے نہیں، مگر یہ کہ جب وہ بین الاقوامی قوانین کی حمایت میں کسی عالمی عزم کے روبرو ہوں، کیونکہ ایک زورزبردستی کرنیوالے شخص کی خواہشات، ردعمل نہ ملنے پر مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کا تعلق خود یورپی ممالک کیساتھ ہے، جبکہ ہم امریکہ کیساتھ ان کے معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
خبر کا کوڈ : 814431
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے