0
Wednesday 4 Sep 2019 16:20

کشمیر میں بھارتی مظالم اور اسرائیل بطور ریاست دونوں نامنظور ہیں، ترجمان پاک فوج

کشمیر میں بھارتی مظالم اور اسرائیل بطور ریاست دونوں نامنظور ہیں، ترجمان پاک فوج
اسلام ٹائمز۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کشمیریوں کے عوام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج جدوجہد آزادی میں کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے پریس شروع کرتے ہوئے کہا کہ آج کی ان کی بریفنگ کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیر ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں بہادر کشمیریوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ آزادی کی اس جدوجہد میں ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، ہماری سانسیں آپ کے ساتھ چلتی ہیں، 72 سال آپ نے بھارتی دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے، آپ کی جدوجہد آزادی کو دہشت گردی جیسے ناپسندیدہ عمل سے تابیر کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ آپ کی ثابت قدمی کو سلام ہے، ہمیں آپ کی موجودہ مشکلات کا بھرپور احساس ہے، ہم آپ کے ساتھ کھڑے تھے، کھڑے ہیں اور انشااللہ کھڑے رہیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمیں رب سے امید ہے کہ آپ اپنا جائز حق خود ارادیت حاصل کرکے رہیں گے۔ بات جو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ ہم ثابت قدم رہیں، آزادی کی جدوجہد بہت لمبی ہوتی ہے، پاکستان کی آزادی کی جدوجہد 1947 میں شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ اس کا آغاز 1857 سے ہوگیا تھا، اتنی لمبی جدوجہد کرکے ہم نے پاکستان حاصل کیا اور کشمیر کے لیے بھی اس جدوجہد پر نہ کوئی سمجھوتہ ہوگا اور نہ اس میں کوئی کمی آئے گی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کی افواج اس کی خودمختاری اور سلامتی کی محافظ ہوتی ہیں، اگر قومی طاقت کے دوسرے عناصر مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم کو روکنے کی کوششوں میں کامیاب نہیں ہوتے تو جنگ لڑنا مجبوری میں ایک آپشن بن جاتا ہے اور پھر کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، اس کے لیے ہم کوئی بھی قدم اور کسی بھی انتہا تک جائیں گے خواہ اس کی ہمیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے، پاکستانی عوام، حکومت اور افواج پاکستان آخری گولی، آخری سپاہی، آخری سانس تک پرعزم ہیں اور رہیں گے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان کے مشرق میں ایک ایسا ملک ہے جس کے خطے کے بڑے پلیئرز کے ساتھ معاشی مفادات جڑے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے شمال میں دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت چین ہے، جس کے بھارت کے ساتھ کچھ اختلافات موجود ہیں۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ہمارے مغرب میں افغانستان ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں کا مرکز رہا ہے جبکہ جنوب مغرب میں ایران موجود ہے جس سے ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں لیکن مشرق وسطیٰ کے ماحول کی وجہ سے اس ملک کو مسائل درپیش ہیں۔ بھارت کی بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتیں غیر محفوظ ہیں وہاں فاشسٹ مودی کی حکومت ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خطہ امن کی جانب بڑھ رہا ہے لیکن بھارت اس وقت نئی جنگ کا بیج بو رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق بات کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ وہاں کی صورتحال خراب ہے، وہاں نسل کشی جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ لڑنا جنگ کا حصہ ہے، تاہم اس سے قبل ملک کے دیگر عوامل جس میں سفارتکاری، معیشت قانون، انٹیلی جنس اور معلومات کا رد عمل چلتا رہتا ہے۔ اپنی بات جو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سفارتی سطح پر پاکستان کشمیر کا معاملہ 50 سال بعد سلامتی کونسل میں لے کر گیا جو بڑی کامیابی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کشمیر کے معاملے پر وزیراعظم عمران کان نے تقریباً 13 ممالک کے سربراہان سے بات چیت کی ہے اور نہیں کشمیر کے بارے میں آگاہ کیا۔

پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ جو مسئلہ پہلے دبا ہوا تھا وہ آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے آرہا ہے اور دنیا اس معاملے کو اپنے سامنے رکھ رہی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بھارت ثالثی کی پیشکش کو قبول نہیں کرتا تو پھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں کس چیز پر بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مقبوضہ کشمیر میں بھارت حکومت کی خواہش ہے کہ وہ کچھ اس طرح دباؤ بڑھائے کہ وہاں لوگ مشتعل ہوں جسے وہ دہشتگردی کا نام دے۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان اب دھوکے میں نہیں آئے گا، کیونکہ کشمیر میں اسطرح کی کارروائی پاکستان کے لیے متحمل نہیں ہوسکتا۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے، جنگ کا اختیار مجبوری ہوجاتا ہے، ہم کشمیر کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے، آخری گولی اور آخری فوجی تک لڑیں گے۔ اسٹریٹجک صلاحیت اور ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق سوال کے جواب میں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ معاملہ سنجیدگی نوعیت کا ہے جس پر عام مقامات یا پریس کانفرنس پر بات نہیں کی جاسکتی۔ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ یہ عوام کے کرنے کی باتیں نہیں ہیں، بس انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے اثاثہ ہیں اور جب انہیں خطرہ ہوگا تو انہیں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

آزاد کشمیر سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ہماری توجہ کا محور مشرقی سرحد ہے، تاہم اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ وہاں ہم کمزور ایسا نہیں ہوسکتا اس سے بھارت کو واضح رہنا چاہیے۔ اسرائیل سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ہائبرڈ جنگ سے نبرد آزما ہے اور اس کا مقصد یہی ہوتا ہے قوم میں اختلاف پیدا کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا اسرائیل سے گزشتہ 72 سال سے جو موقف رہا ہے وہ برقرار ہے اور اس میں اب تک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور اس کے تسلیم سے متعلق بات پروپگینڈا ہے۔ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ بھارت مانتا ہے کہ یہ 2 طرفہ معاملہ ہے، تاہم اس نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کی ختم کرکے یہ معاملہ ختم کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فوج ایک پیشہ وار فوج ہے، جس طرف آرمی چیف دیکھتے ہیں، پوری فوج اسی طرف دیکھنے لگتی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ادارے آئی ایس پی آر ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آج کی نیوز کانفرنس کا بنیادی مقصد مقبوضہ کشمیرکی صورتحال ہے، سرحد پر کشمیریوں کی صورتحال سےمتعلق آگاہ کروں گا، کور کمانڈرز کانفرنس میں بھی مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر گفتگو کی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ کسی بھی ملک کے 2 حالات ہوتے ہیں،ایک اندرونی اور دوسرا خطےکی صورتحال ہوتی ہے، ہمارے خطے میں عالمی طاقتوں کے مفاد بھی چل رہے ہیں، خطے میں مفاد کے حصول کیلئے پاکستان کو اہمیت حاصل ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے کہا بھارت میں آج کل ہٹلر کے پیروکار مودی کی حکومت ہے، چین کے ساتھ ہمارے اچھے اور بہترین تعلقات ہیں، خطےمیں معاشی صورتحال سے متعلق چین کا اہم کردار ہے، چین اور بھارت کے اپنے بھی بہت سے مسائل ہیں، چین اور بھارت کے مسائل کے باوجود معاشی تعلقات ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ایران کے ساتھ بھی ہمارے اچھےتعلقات ہیں، مشرق وسطیٰ کے حالات کی وجہ سے ایران بھی مسائل کا شکار ہے، مجموعی طور پر ایران کا خطے میں امن کیلئے اہم کردار ہے۔
خبر کا کوڈ : 814446
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب