0
Wednesday 4 Sep 2019 18:00

گواہان سن لیں اب اگر جھوٹ بولیں گے تو سزا ضرور ملے گی، جسٹس آصف سعید

گواہان سن لیں اب اگر جھوٹ بولیں گے تو سزا ضرور ملے گی، جسٹس آصف سعید
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس آصف کھوسہ نے دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا گواہ سن لیں اب اگر جھوٹ بولیں گے تو سزا ضرور ملے گی، قانون میں لکھا ہے جھوٹ بولنا جرم ہے، جو سچ نہیں بول سکتا وہ انصاف بھی نہ مانگے۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور رجسٹری میں دو پارٹیوں کے تنازع میں قتل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سماعت میں وکیل نے بتایا دونوں پارٹیوں میں صلح ہوچکی ہے، جس پر عدالت نے کہا کیس میں 13 سے 11 لوگ پہلے ہی بری ہوچکے ہیں، جب سارا جھوٹ ہو تو سچ تلاش کرنا مشکل ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے اہم ریمارکس میں کہا دونوں پارٹیوں نے اتنا جھوٹ بولا کہ سچ ڈھونڈنا مشکل ہوگیا، دونوں پارٹیاں جھوٹ کا پلندہ ہیں، اگر اتنا جھوٹ بولیں گے تو ہم فیصلہ کیسے کریں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنے جھوٹ کے بعد کچھ باقی ہی نہیں رہ جاتا، 100 میں سے 95 فیصد پورے مقدمے میں جھوٹ بولا گیا، کیس پڑھتے ہوئے حیران رہ گیا اتنا جھوٹ کیسے بولاجا سکتا ہے، نچلی عدالتوں کو کیوں کچھ نظر نہیں آتا۔ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا ساری دنیا میں قانون ہے گواہ جھوٹ بولےگا تو مقدمہ ختم، 1951ء میں لاہور ہائی کورٹ نے کہا جھوٹ بول لیں سچ تلاش کر لیں گے، سارا معاملہ 1951ء کے بعد خراب ہوا، عدالت نے جھوٹ بولنے کا لائسنس جاری کردیا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کیسے جھوٹ بولنے کی اجازت کسی کو دے سکتی ہے، قانون میں لکھا ہے کہ جھوٹ بولنا جرم ہے، کوئی اگر جھوٹ بولے گا تو فائدہ ملزم کو ہوگا۔
 
 
خبر کا کوڈ : 814471
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب