0
Friday 6 Sep 2019 12:30

اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے، مسعود خان

اقوام متحدہ تنازعہ کشمیر حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اپنے اس مطالبے کو دوہرایا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مزید وقت ضائع کئے بغیر مقبوضہ جموں و کشمیر میں 80 لاکھ انسانوں کی زندگی بچانے کے لئے اپنی نگرانی میں ایک انسانی راہداری کھولے اور بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں محصور آبادی کو ہنگامی بنیاد پر خوراک اور ادوویات فراہم کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے۔ جمعرات کے روز اسلام آباد میں کشمیر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنے چارٹر کی روشنی میں فوری مداخلت کر کے کشمیریوں کی نسل کشی رکوانے اور غیر ملکی جارحیت کا شکار لاکھوں انسانوں کی زندگی کو لاحق خطرات کا تدارک کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمہ بین الاقوامی قوانین اور اپنی منظور کردہ قراردادوں کے تحت تنازعہ کشمیر حل کرنے کے لئے عملی اقدامات کرے۔ سیمینار سے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی لیفٹیننٹ جنرل زبیر محمود حیات، قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام، دفاعی امور کے تجزیہ نگار لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب، میجر جنرل ریٹائرڈ خالد جعفری اور سابق وفاقی وزیر اور بین الاقوامی قانون کے ماہر احمد بلال صوفی نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزادکشمیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ بین الاقوامی برادری کی چشم پوشی کی پالیسی نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری رکھنے، کشمیریوں کے بنیادی شہری حقوق پامال کرنے اور مکمل میڈیا بلیک آﺅٹ کر کے لاکھوں انسانوں کو خوراک، ادوویات اور زندگی کی دیگر ضروریات محروم کرنے کے لئے دلیر بنا دیا ہے۔ بھارت کے جنونی اور انتہاء پسند حکمران نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں لاکھوں انسانوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں بلکہ ان کے غیر قانونی اور ذمہ دارانہ اقدامات نے پورے خطے کے امن و سلامتی کو داﺅ پر لگا دیا ہے جس کا فوری نوٹس لینا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے۔ بھارتی حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو اٹھائے گئے اقدامات کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ نریندر مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھارتی آئین کی دفعہ 35۔ اے ختم کر کے مقبوضہ کشمیر کو ایک زیر قبضہ علاقے سے غیر ملکی کالونی میں تبدیل کر دیا ہے اور کشمیریوں کو ان کی شناخت، بنیادی حقوق اور حق خودارادیت سے محروم کرنے کی ایک گہری اور گھناﺅنی سازش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ اگست سے اب تک سیاسی رہنماﺅں، قانون سازوں، وکلا، طلبہ اور بچوں سمیت دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں سے بڑی تعداد کو کشمیر سے باہر بھارت کی مختلف جیلوں اور عارضی قید خانوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ بھارت کی نو لاکھ فوج نے گزشتہ ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر کے شہروں اور دیہاتوں کو مکمل محاصرے میں لے رکھا ہے جہاں کسی کو ایک گھر سے دوسرے گھر میں آنے جانے کی اجازت نہیں ہے۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بدقسمتی سے دنیا کے بااثر ممالک اور خود اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کے جابرانہ اور ظالمانہ اقدامات کے خلاف کوئی نوٹس نہیں لیا جس کے نتیجے میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک خوفناک انسانی المیہ جنم لے رہا ہے۔ دنیا کے اہم ممالک بھارت اور پاکستان کے درمیان مصنوعی توازن قائم رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں اور اپنے سفارتخانوں اور میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے باوجود بھارت کے خلاف کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے کے لئے آمادہ نظر نہیں آتے۔

سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کی حکومتوں کے طرز عمل کے برعکس دنیا کی سول سوسائٹی اور میڈیا بیدار ہے اور مسلسل کشمیریوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو موثر انداز میں اجاگر کیا جا رہا ہے جبکہ پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی بھی بیدار ہے اور اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ بھارت کے جنونی حکمرانوں کے اہداف مقبوضہ کشمیر پر اپنا قبضہ مستقل کرنے سے بڑھ کر ہیں۔ وہ پاکستان کی سلامتی کے خلاف برے عزائم رکھنے کے علاوہ عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے اور او آئی سی مبصر کے طور پر شامل ہونے کی کوشش بھی کر رہے ہیں جس کو موثر حکمت عملی سے ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 814802
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب