0
Saturday 7 Sep 2019 09:15

چین برصغیر میں نئی جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، امریکہ

چین برصغیر میں نئی جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، امریکہ
اسلام ٹائمز۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے پاکستانی سفارت خانے میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کی جانب سے کشمیر کے الحاق کے فیصلے کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے میں چین تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی سفارت خانے میں یومِ دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معاون سیکریٹری دفاع رینڈل شرائیور نے کہا کہ امریکی اور پاکستانی فوج کے درمیان تعلقات ہمارے رشتے کے اہم ستونوں میں سے ایک ہے۔ کیا چین برصغیر میں نئی جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے کہ جواب میں امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ ہم دیکھیں گے کہ اگر چین اس میں کوئی تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے وہ یقینی طور پر کرسکتے ہیں کیوں کہ وہاں ان کے مفادات ہیں۔

رینڈل شرائیور جو پینٹاگون میں ایشیا پیسفک خطے کے معاملات دیکھتے ہیں کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں امریکا اور چین کا اثر و رسوخ میں مقابلہ ہے۔ خیال رہے کہ ایشیا پیسفک خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے مقصد سے امریکا نے بھارت کو اتحادی بنایا تھا جس سے واشنگٹن اور نئی دہلی میں بڑھتی ہوئی قربت کی وضاحت ہوتی ہے۔ امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ میرے خیال میں چینی بہت سے طریقوں سے امریکا کے ساتھ مقابلے میں ہے اور کئی طرح سے اثر انداز ہوسکتے ہیں زیادہ تر انڈو پیسفک بحری معاملات میں، چین نے بھی ہمارے ساتھ مسابقتی پوزیشن کا انتخاب کیا ہے۔ امریکی عہدیدار نے اس بات کی وضاحت، کہ واشنگٹن جنوبی ایشیا میں کشیدگی کس طرح کم کرنا چاہتا ہے، کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کسی بھی طرح کا اختلاف، سیاسی اختلاف مذاکرات کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے اور ہم تمام فریقین کو یہ پیغام بھیجتے رہیں گے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت جن کے درمیان کشمیر کے معاملے پر 3 جنگیں ہوچکی ہیں وہ اسی مسئلے پر ایک اور جنگ کریں گے تو انہوں نے جواب دیا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ صورتحال پر امن رہے اور تمام معاملات سفارتی کوششوں سے حل کیے جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ہماری خواہش اور توقع ہے کہ معاملات پر امن ہوجائیں۔ امریکی معاون سیکریٹری دفاع کا کہنا تھا کہ وائٹ ہاؤس اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں موجود سینئر قیادت جنوبی ایشیا میں امن برقرار رکھنے کی کوششوں کی سربراہی کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے یقینی طور پر وہاں کے عوام کے ساتھ برتے جانے والے سلوک کے حوالے سے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 814925
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب