0
Wednesday 11 Sep 2019 15:33

کسی کی آواز یا رائے کو دبانے سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے، جسٹس آصف سعید

کسی کی آواز یا رائے کو دبانے سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے، جسٹس آصف سعید
اسلام ٹائمز۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ اختلافی آواز کو دبانے کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھ رہی ہیں، کسی کی آواز یا رائے کو دبانا بد اعتمادی کو جنم دیتا ہے، اور اس سے پیدا ہونے والی بے چینی جمہوری نظام کے لیے خطرہ ہے۔ نئے عدالتی سال کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بخوبی آگاہ ہوں کہ سوسائٹی کا ایک طبقہ جوڈیشل ایکٹیویزم میں عدم دلچسپی پر ناخوش ہے، یہی طبقہ چند ماہ پہلے جوڈیشل ایکٹیویزم پر تنقید کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ از خود نوٹس پرعدالتی گریز زیادہ محفوظ ہے اور کم نقصان دہ ہے تاہم معاشرے کا وہ طبقہ چند لوگوں کے مطالبے پر سو موٹو لینے کو سراہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پر عزم ہیں، عدالتی عمل میں دلچسپی رکھنے والے درخواست دائر کریں جسے سن کر فیصلہ ہوگا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنی تقریر میں کہہ چکا ہوں کہ ازخود نوٹس کا اختیار قومی اہمیت کے معاملے پر استعمال کیا جائے گا، جوکسی کے مطالبے پر لیا گیا ہو وہ سوموٹو نوٹس نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے گھر کو درست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جوڈیشل ایکٹیویزم کی بجائے سپریم کورٹ عملی فعال جوڈیشلیزم کو فروغ دے رہی ہے۔ چیف جسٹس نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کو مشکل ترین کام قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین صدر مملکت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کونسل کو کسی جج کے کنڈکٹ کی تحقیقات کی ہدایت کرے۔

انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی کسی جج کے خلاف شکایت سپریم جوڈیشل کونسل کی رائے پراثرانداز نہیں ہوتی، دوسری جانب کونسل اپنی کارروائی میں آزاد اور بااختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ عدالتی سال سپریم جوڈیشل کونسل میں زیر التواء نجی درخواستوں کی تعداد 56 تھی، اس وقت اس میں 9 شکایات زیر التواء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے دونوں ریفرنسز پر کونسل اپنی کارروائی کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے تمام ممبران اور چیرمین اپنے حلف پر قائم ہیں، جو کسی بھی قسم کے خوف، بدنیتی یا دباؤ کے بغیر اپنا کام جاری رکھیں گے۔

اسلام آباد میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ قانون کے مطابق انصاف کی فراہمی کے علاوہ کونسل سے کوئی بھی توقع نہ رکھی جائے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں نے تقاضا کیا تھا کہ انتظامیہ اور قانون ساز عدالتی نظام کی تنظیم نو کے لیے نیا تین تہی نظام متعارف کروائیں، بدقسمتی سے اس معاملے پر کچھ نہیں کیا گیا،حتیٰ کہ ادارہ جاتی مذاکرات کی تجویز پر بھی غور نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں پہلی بار سپریم کورٹ پاکستان نے ای کورٹ سسٹم متعارف کرایا، جس کے ذریعے سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اور تمام رجسٹریاں ویڈیو لنک کے ذریعے منسلک ہوئیں۔
خبر کا کوڈ : 815616
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب