0
Friday 13 Sep 2019 09:45

راجہ فاروق کی چیئرمین کشمیر کمیٹی سے ملاقات

راجہ فاروق کی چیئرمین کشمیر کمیٹی سے ملاقات
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق خان سے چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کشمیر ہاوس میں ملاقات کی۔ دونوں رہنماوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مشترکہ اعلامیہ کا خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم راجہ محمد فاروق خان نے کہا کہ کشمیریوں کی لازوال قربانیوں اور پاکستان کے اصولی موقف کا ثمر ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت سے جارحانہ اقدامات واپس لینے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے غیر معینہ مدت تک کے کرفیو نے کشمیری عوام کی زندگیوں کو جہنم بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غاصبانہ اور جارحانہ رویے کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر میں بڑا انسانی المیہ پنپ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام کی جانب سے کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کشمیر کے مسئلے پر ردعمل ظاہر کر رہی ہے 58 ممالک کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے اندر ہندوستانی اقدامات کی مذمت کشمیریوں کی قربانیوں کا ثمر ہے۔

راجہ فاروق نے کہا کہ دورہ امریکہ اور برطانیہ کے دوران مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے دوران محسوس کیا کہ عالمی برادری کشمیریوں کی آواز کو سنتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کو اپنے بوٹوں تلے روند دیا ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ پاکستان کے جیینوا میں پانچ نکاتی مطالبات حق پر مبنی ھیں جنکی پوری مہذب دنیا کی طرف سے بھرپور تائید ھونی چاہیے۔ انہوں نے چیئرمین کشمیر کمیٹی سے کہا کہ اس وقت دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت ہے کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کروایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے کشمیر کا مقدمہ بہترین انداز میں لڑا اس میں تسلسل رہنا چاہیے تاکہ مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکیں۔ امید ھے کہ وزیراعظم پاکستان کے جلسے سے دنیا کو کشمیر کے سلسلے میں قومی یکجہتی کا واضح پیغام جائیگا۔۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی قربانی کا ثمر ہے کہ بین الاقوامی برادری اب کھل کر ہندوستان کی مذمت کر رہی ہے۔

اس موقع پر چئیرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے کہا کہ پاکستانی قوم حکومت اپوزیشن سب کشمیر کے معاملے پر ایک اور اپنے بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے دورہ مظفرآباد سے ایل او سی کے اس پار انتہائی مثبت پیغام جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے قومی اصولی موقف پر پوری قوم متفق ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرفیو کو 39 دن ہو گئے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ لوگوں کے متعلق اچھی خبریں نہیں آ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کا جلسہ سیاسی نہیں خالصتا یکجہتی کے لیے ہے۔
خبر کا کوڈ : 815900
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب