0
Sunday 15 Sep 2019 11:16

دنیا کے تمام امن پسند شہریوں کو مل کر بھارتی فحشزم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا، مسعود خان

دنیا کے تمام امن پسند شہریوں کو مل کر بھارتی فحشزم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام امن پسند شہریوں کو مل کر بھارتی فحشزم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہو گا۔ بھارت کے ہندو انتہاء پسندانہ نظریات کو محض کشمیر، بھارت اور پاکستان کے مسلمانوں کے خلاف سمجھنا سنگین غلطی ہو گی۔ بھارتی حکمران اور انتہاء پسند تنظیم اکھنڈ بھارت کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں جن کا ہدف یہ ہے کہ ہندو مذہب کے پیروکاروں کے علاوہ دوسرے تمام انسانوں کو جینے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مانچسٹر میں شمالی انگلینڈ سے تعلق رکھنے والے ممبران پارلیمنٹ، ممبران یورپی پارلیمنٹ، میئرز حضرات اور کونسلرز کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر برطانیہ کی پارلیمنٹ کے رکن انڈریو گائین،برطانوی پارلیمنٹ کے رکن افضل خان، یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن واجد خان، ٹیمزسائیڈ کونسل کے مئیر اور مانچسٹر کے میئر عابد لطیف چوہان بھی موجود تھے۔

بھارت کے انتہاء پسندانہ نظریے کو گزشتہ صدی میں یورپ میں فروغ پانے والے قوم پرستانہ شدت پسندی سے مماثل قرار دیتے ہوئے صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارتی انتہاء پسندی عالمی امن و سلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی جارح اور قابض فوج نے گزشتہ ماہ کی پانچ تاریخ کو ایک نیا حملہ کر کے کشمیریوں کو نہ صرف ان کے حقوق اور شناخت سے محروم کر دیا بلکہ پورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو بھارت کی کالونی میں بھی تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کی 80لاکھ آبادی کو ان کے گھروں میں قید کر دیا گیا ہے اور اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر کی گلیاں، بازار، سڑکیں اور دیہات قبرستان کی خاموشی کا منظر پیش کر رہے ہیں۔ سڑکوں اور گلیوں میں بھارتی فوجی اہلکاروں کے علاوہ کوئی انسان نظر نہیں آتا جبکہ بھارتی فوجی کرفیو اور ابلاغی بلیک آئوٹ کا فائدہ اٹھا کر کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ مقبوضہ علاقے میں کرفیو کے باعث خوراک اور ادویات کی قلت ایک بڑی انسانی المیے کی صورت میں سامنے آ رہی ہے ان حالات میں برطانیہ کے ممبران پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، سلامتی کونسل کے ارکان، جنرل اسمبلی کے صدر اور انسانی حقوق کونسل اورانسانی حقوق کمیشن کے سربراہان کے نام خطوط لکھیں اور ان سے مقبوضہ کشمیر کی محصور آبادی کے لئے انسانی راہداری کھولنے اور بھارتی حکومت کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کو اپنی کالونی قرار دینے کی مخالفت کرنے کا مطالبہ کریں۔

صدر آزادکشمیر نے شرکاء پر زور دیا کہ وہ کشمیر اور اہل کشمیر کو بچانے، بھارتی کے فحشزم اور ہندو راج مسلط کرنے کے نظریے کو مسترد کرنے، پاکستان پر جنگ مسلط کرنے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلانے کے لئے اپنے کاوشیں تیز تر کریں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی کو بھارت کی طرف سے خطرات اور چیلنجز کا مکمل ادراک ہونا چاہیے۔ بھارت نے 5 اگست کو غیر قانونی اقدام کے ذریعے کشمیر کو ایک مقبوضہ علاقے سے اپنی کالونی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں نسل کشی کے ذریعے کشمیریوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے اور پاکستان کو جنگ اور اس کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکیاں دے کر خطہ میں جنگ و خوف و ہراس کا ایک ماحول پیدا کر رہا ہے۔

سردار مسعود خان نے جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت اور اس کے صدر نجابت حسین کی طرف سے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے آگاہی مہم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ بھارت نے پہلے سے موجود سات لاکھ فوج کے علاوہ ایک لاکھ اسی ہزار تازہ دم فوج کے ساتھ حملہ کر کے مقبوضہ کشمیر کو اپنی کالونی میں بدل دیا ہے جہاں قابض فوج رات کے اندھیرے میں کشمیریوں کے گھروں پر چھاپے مار کر نوجوانوں کو گرفتار کرتی ہے اور نوجوان لڑکیوں کی بے حرمتی کرتی ہے، بزرگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے جانے کے علاوہ ہزاروں بے گناہ شہریوں کو کالے قوانین کے تحت گرفتار کر کے انہیں دو سال تک بغیر مقدمہ چلائے جیلوں میں بند رکھنے اور پرامن احتجاج کرنے والے شہریوں کو دہشت گرد قرار دے کر انہیں قتل، زخمی اور معذور کرنے میں مصروف ہے۔ ان تمام ظالمانہ اقدامات کا مقصد کشمیریوں کو آزادی اور حق خودارادیت کے لئے آواز بلند کرنے کی سزا دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے یہ تمام منفی ہتھکنڈے ان شاءاللہ ناکام ہوں گے اور کشمیری عوام اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہوں گے لیکن اس کے لئے طویل جدوجہد اور سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے۔
خبر کا کوڈ : 816291
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے