0
Wednesday 18 Sep 2019 16:41

وزیراعظم نے طور خم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا

وزیراعظم نے طور خم بارڈر 24 گھنٹے کھلا رکھنے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا، امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا طور خم میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا دعا ہے افغانستان میں امن ہو، افغانستان میں امن ہونے سے طورخم کا علاقہ ترقی کرے گا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ طورخم کے راستے سینٹرل ایشیا تک تجارت ہوگی، پشاور پاکستان کا تجارتی حب بنے گا، طورخم ٹرمینل کھولنے سے ہی تجارت میں 50 فیصد اضافہ ہوگیا ہے، اس سے تجارتی روابط بڑھنے سے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ عمران خان نے کہا طورخم بارڈر 24 گھنٹے کھولنے کا اقدام تاریخی ہے، تجارت بڑھے گی تو علاقے میں خوشحالی آئے گی، بارڈر سسٹم سے وسط ایشیائی قوتیں بھی مستفید ہوں گی۔ اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا نظریہ نہیں ہوتا تو ملک میں جمہوریت صحیح معنوں میں نہیں چلتی، اپوزیشن کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے انہیں این آراو دے دیں، اپوزیشن کا پہلے دن سے یہی رویہ ہے کہ میں کسی طرح دباؤ میں آجاؤں۔

انہوں نے کہا دو این آر او کی وجہ سے قرضہ 6 ہزار سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک پہنچ گیا، اپوزیشن کے مقدمات ہمارے دور میں نہیں بنائے گئے، ہم نے اداروں کو آزاد کیا ہے کسی کو تحفظ نہیں دیا۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم کو واضح کرتا ہوں جو مرضی ہو جائے کسی کو این آراو نہیں دیں گے، ملک پر قرضہ چڑھانے والوں کی وجہ سے آج مہنگائی کا سامنا ہے، فیکٹریاں، منی لانڈرنگ کرنے والوں کا احتساب نہیں ہوگا تو ملک کا کوئی مستقبل نہیں۔ عمران خان نے کہا کہ ملک کے معاشی حالات کا تعلق امن سے ہوتا ہے، دہشت گردی کیخلاف جنگ سے قبائلی علاقوں میں تباہی ہوئی، حکومت میں آکر پہلی ترجیح تھی ملک میں امن ہو پڑوسیوں سے اچھے تعلقات ہوں۔ امریکا طالبان مذاکرات منسوخی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور طالبان مذاکرات میں رکاوٹ ہم سب کی بدقسمتی ہے، میری پوری کوشش ہوگی امریکا طالبان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں، افغان امن سے متعلق معطل مذاکرات بحال کرانے کی پوری کوشش کروں گا، کشمیر کی صورتحال سے متعلق وزیراعظم نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے 80 لاکھ لوگوں کو محصور کر رکھا ہے، بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان پر اب قبضہ ہو چکا ہے، انتہا پسند ہندو آر ایس ایس نے بھارت پر قبضہ کر لیا ہے، آر ایس ایس کی پالیسی نفرت سے بھری ہوئی ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہندوستان میں آر ایس ایس مسلمانوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے، بھارت میں اسوقت نارمل حکومت نہیں ہے، آرٹیکل 370 اور کرفیو اٹھانے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہوسکتی، جہاد کی سوچ رکھنے والا سب سے پہلے کشمیریوں کیساتھ ظلم کرے گا، بھارت نے 9 لاکھ فوجیوں کو مقبوضہ کشمیر میں اکٹھا کر کے رکھا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو پہلے بھارت کیساتھ تھے اب وہ بھی نہیں رہے، بھارت اس وقت بری طرح پھنسا ہوا ہے، یہاں سے کسی نے کوئی حرکت کی تو وہ پاکستان کا بھی دشمن ہوگا اور کشمیریوں کا بھی، پاکستان کا آئین تمام انسانوں کو برابری کا شہری سمجھتا ہے، کشمیر کا بچہ ہو یا بوڑھا سب اس وقت بھارت کیخلاف ہوگئے ہیں، گھوٹکی میں ہندو برادری پر حملہ سوچی سمجھی سازش ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جنرل اسمبلی اجلاس میں کشمیر کاز کو بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا، وعدہ کرتا ہوں مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں ایسے اٹھاؤں گا کہ کسی نے آج تک نہ اٹھایا ہوگا۔

عمران خان نے کہا افغانستان میں امن کے حوالے سے اشرف غنی سے فون پر بات کی ہے، پاکستان نے افغان امن مذاکرات کیلئے بھرپور کوشش کی، امریکا نے بھی افغان امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا، معلوم ہوتا مذاکرات میں کہاں رکاوٹ آئی تو ہم دور کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیر کو امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات ہوگی، افغان امن مذاکرات معطل ہونے کا زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا ہے، افغان امن مذاکرات کی بحالی کیلئے پورا زور لگائیں گے، افغان امن مذاکرات پر معاہدہ بالکل قریب تھا، طالبان نے افغان الیکشن میں حصہ نہ لیا تو پھر یہ بڑا المیا اور افسوسناک ہوگا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پوری کوشش ہے کسی طرح سے لوگوں پر مہنگائی کا بوجھ نہ پڑے، تیل 150 ڈالر کا آتا تو ساری چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 816918
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب