0
Saturday 21 Sep 2019 00:07

جامعہ پشاور میں بھی کلائمیٹ چینج سٹرائیک کے نام سے ریلی کا انعقاد

جامعہ پشاور میں بھی کلائمیٹ چینج سٹرائیک کے نام سے ریلی کا انعقاد
اسلام ٹائمز۔ پاکستان سمیت دنیا بھر کی طرح جامعہ پشاور میں بھی کلائمیٹ چینج سٹرائیک واک کے نام سے ایک ریلی نکالی گئی۔ ملک کے 31 شہروں میں بیک وقت منائے گئے اس دن کا مقصد معاشرے میں ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگہی پھیلانا اور موسم میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلی کیلئے نوجوان نسل کو چوکس و بیدار کرنا تھا۔ ماحولیاتی سوسائٹی کے زیرِ اہتمام نکالی گئی ریلی میں جامعہ کے اساتذہ، طلباء، اسلامک ریلیف پاکستان اور ہلال احمر کے کارکنوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ پیوٹا چوک تا کانوکیشن ہال نکالی گئی ریلی کی قیادت اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر آصف خان خٹک کر رہے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر آصف خان خٹک کا کہنا تھا کہ ریلی کا مقصد عالمی سطح پر احتجاجی تحریک کا حصہ بننا اور عوام میں صاف ماحول اور انسانوں کی زندگی محفوظ کرنے کیلئے علمی کوششوں کے حوالے سے آگاہی پھیلانا ہے۔

شعبہ ماحولیات کے چیئرمین ڈاکٹر حزب اللہ کا کہنا تھا کہ ہم کیسے ماحولیاتی اور موسمی تبدیلی کا مقابلہ کر سکتے ہیں، کلائمیٹ چینج اب ایک سائنس بن گئی ہے اور یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں کو اس طرف موڑنا چاہیئے، اس سلسلے میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی بڑی ذمہ داری بنتی ہے۔ شعبہ ماحولیات سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر شفیق الرحمٰن کا کہنا تھا کہ عالمی اور ملکی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی کے باعث زرعی پیداوار کم، جبکہ سیلاب اور قدرتی آفات کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے، بیدار معاشرے اور پالیسی ساز اداروں کی مستعدی کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے صحیح استعمال اور پیشگی تیاریوں میں ہی انسان کی بقاء ہے۔ واضح رہے کہ کلائمیٹ چینج کی بین الاقوامی تحریک فرائیڈے فار فیوچر کے زیرِ اہتمام جمعہ کو دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے، جرمنی میں تقریباً 400 ریلیاں نکالی گئیں، ہزاروں افراد آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، فلپائن اور تھائی لینڈ کے مختلف شہروں میں جمع ہوئے اور ماحول کو تحفظ دینے کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ یہ مظاہرے ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکی براعظموں کے قریب سبھی بڑے شہروں میں بھی کئے گئے۔

ان شہروں کی تعداد 110 سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ درختوں کو کاٹنے سے بچایا جائے، زہریلی گیسوں کے اخراج کو کم کیا جائے اور دنیا کے مستقبل کو محفوظ بنانے  کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ’’سکول سٹرائک فار کلائمیٹ‘‘ کی بنیاد سویڈن کی 16 سالہ گریٹا تنبرگ نے اگست 2018ء میں رکھی تھی۔ گریٹا نے جمعے کے دن اپنے سکول سے نکل کر فیصلہ کیا کہ وہ پڑھائی چھوڑ کر کلائمیٹ چینج پر ایکشن لینے کے حوالے سے سویڈن پارلیمنٹ کے سامنے اپنا احتجاج ریکارڈ کرے گی۔ سویڈن پارلیمنٹ کے سامنے گریٹا کا احتجاج چند ہی دنوں میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا اور کچھ ہی عرصے میں دوسرے ممالک کے طلبا اور سماجی کارکنوں نے احتجاج میں حصہ لینا شروع کیا۔ اس احتجاج کو دنیا بھر میں "فرائیڈے فار فیوچر” "سکول سٹرائک فار کلائمیٹ” "یوتھ سٹرائک فار کلائمیٹ” یوتھ فار کلائمیٹ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹوئٹر پر لوگوں نے سپورٹ کیا، گریٹا کا احتجاج پچھلے 56 ہفتوں سے جاری ہے۔
خبر کا کوڈ : 817382
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب