0
Saturday 21 Sep 2019 01:24
ٹرمپ جنگ لڑنے والا نہیں، وہ پیسوں کے چکر میں ہے

عرب امارات اور سعودی عرب! ہوش کے ناخن لو! ایران کیساتھ جنگ تمہیں لے ڈوبے گی، سید حسن نصراللہ

تیل کب سے خون سےزیادہ قیمتی ہوگیا ہے؟ سعودیہ کیساتھ یکجہتی کااعلان کرنیوالےکیا یمنی خون بھول گئےہیں؟
عرب امارات اور سعودی عرب! ہوش کے ناخن لو! ایران کیساتھ جنگ تمہیں لے ڈوبے گی، سید حسن نصراللہ
اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ نے علامہ شیخ حسین کورانی کو خراج تحسین پیش کرنیکی ایک تقریب سے خطاب کے دوران بین الاقوامی حالات پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنانی وزیر دفاع نے اپنی کانفرنس میں 2 اسرائیلی ڈرون طیاروں کے ذریعے ضاحیہ نامی لبنانی علاقے میں ہونیوالی اسرائیلی جارحیت کے بارے میں اہم اطلاعات فراہم کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر 2 نکات بیان کرنا اہم ہیں۔ پہلا "نیا دفاعی توازن" ہے جبکہ ہم دفاعی توازن میں کسی بھی قسم کے بگاڑ یا "لڑائی کے قواعد" میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کرتے ہیں اور دوسرا یہ کہ ہم اسرائیلی ڈرون طیاروں کے مقابلے میں "اپنا دفاعی حق" محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے غاصب صیہونی رژیم کیساتھ تعاون کرنیوالے ہر شخص کو ملک کا غدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر اسرائیلی جاسوس کو اس کے جرائم کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہیئے۔

سید مقاومت سید حسن نصراللہ نے سعودی تیل اور یمنی خون کا ایک تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ جنہوں نے سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات تباہ ہونے پر اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے، یمن میں بیگناہ مسلمانوں کے قتل عام پر ان کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کریں۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تیل کب سے خون سے زیادہ قیمتی ہوگیا ہے؟ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر یمنیوں کے جوابی حملے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا، لہذا وہ تیل اور دھاتیں تھیں، جو جلی تھی اور فقط مالی نقصان ہوا تھا، جبکہ کئی ایک ممالک کیطرف سے اس حملے کی مذمت اور سعودی عرب کیساتھ یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ ایک ایسی صورتحال میں ہو رہا ہے، جب یمن پر سعودی عرب کی مسلط کردہ جنگ اپنے 5 ویں سال میں داخل ہوچکی ہے اور اس تمامتر مدت کے دوران کوئی دن ایسا نہیں گذرا، جب سعودی-اماراتی-امریکی فوجی اتحاد کیطرف سے یمنی عوام، مساجد، مدارس، گھروں، ہسپتال اور بازاروں پر بم نہ برسائے گئے ہوں، جبکہ اس موضوع پر خطہ، دنیا، اقوام متحدہ اور امریکی و یورپی حکومتیں ٹَس سے مَس نہیں ہوتیں۔

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے ایران کیخلاف متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جنگی تیاریوں پر انہیں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کیخلاف جنگی حساب کتاب میں نظرثانی کرو، کیونکہ ایران کیساتھ جنگ تمہیں لے ڈوبے گی۔ تمہیں تو ایران کیساتھ جنگ کا سوچنا بھی نہیں چاہیئے، کیونکہ ٹرمپ صرف پیسوں کے چکر میں ہے، وہ کوئی جنگ لڑنا نہیں چاہتا، کیونکہ وہ اس وقت انتخابات کے ماحول میں ہے۔ ویسے بھی امریکہ خطے کے اندر نہ صرف "صدی کی ڈیل" کے حوالے سے بری طرح ناکام ہوچکا ہے بلکہ ایران کو قابو کرنے میں بھی اسے بری طرح شکست ہوئی ہے، جبکہ اب اس کی حالت یہ ہے کہ وہ ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کیساتھ ایک ملاقات کیلئے التماس کرنے پر اُتر آیا ہے۔

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے دوبارہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جب تیل کی تنصیبات پر صرف ایک حملے سے ہی تمہاری یہ حالت ہو رہی رہے ہے تو بیشمار حملات کا کیا نتیجہ نکلے گا؟ انہوں نے کہا کہ تمامتر سعودی آسمان کو فضائی دفاعی سسٹم سے لیس کرنا نہ صرف بہت مہنگا پراجیکٹ ہے بلکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں۔ بنابرایں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کیلئے تیل کی اپنی تنصیبات کو بچانے کا سب سے کم خرچ طریقہ یہ ہے کہ وہ یمن پر اپنی مسلط کردہ جنگ اور یمنی انفراسٹرکچر کی تباہی سے ہاتھ اٹھا لیں، کیونکہ عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جو خود شیشے کے محل میں بیٹھا ہو، اُسے دوسروں پر پتھراؤ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیئے۔
خبر کا کوڈ : 817385
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے