0
Saturday 21 Sep 2019 22:49

مالی سال 2017-18ء میں قومی خزانے کو 29 ہزار 778 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان

مالی سال 2017-18ء میں قومی خزانے کو 29 ہزار 778 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، آڈیٹر جنرل آف پاکستان
اسلام ٹائمز۔ پاکستان مسلم لیگ نون حکومت کے آخری سال وفاقی وزارتوں، ڈویژنز اور سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور مالی بے ضاپتگیوں کی رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے مالی سال 2017-18ء میں ہونے والی مالی بے ضابتگیوں اور کرپشن کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان مسلم نواز کے آخری دور میں قومی خزانے کو 29 ہزار 778 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے فنڈز جاری کیے۔ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق دونوں وزرائے اعظم نے ترقیاتی سکیموں کے لیے اربوں کے فنڈر مجاز فورم کی منظوری کے بغیر جاری کردیے۔ دستاویزات کے مطابق فراڈ، گھپلوں، چوری اور سرکاری وسائل کے 11 کیسز میں خزانے کو 862.4 ملین روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بے قاعدگیوں کے 237 کیسز میں خزانے کو 292  ارب روپے سے زائد کا چونا لگایا گیا۔ دستاویزات کے مطابق 56 کیسز میں مختلف اداروں اور ٹھیکے داروں سے 185 ارب روپے سے زائد کی رقم وصول نہ کی جا سکی، ایک ارب سے زائد کے چار کیسز میں ریکارڈ ہی نہیں دیا گیا۔ کمزور داخلی کنٹرول کے 39 کیسز میں14,562  ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ناقص مالیاتی مینیجمنٹ کے 51 کیسز. میں 14735 ارب کی بے قاعدگیاں کی گئیں۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں گھپلوں اور مشکوک ادائیگیوں کے تمام کیسز تحقیقاتی اداروں کو بھجوانے کی سفارش کی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے ادائیگیوں کے دوران قواعد و ضوابط کی پابندی کو یقینی بنانے کی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پبلک اکاونٹس کمیٹی اب ان بے قاعدگیوں کی جانچ پڑتال کرے گی۔
خبر کا کوڈ : 817571
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب