0
Monday 23 Sep 2019 11:39

امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرانا چاہتے ہیں، فرانس

امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرانا چاہتے ہیں، فرانس
اسلام ٹائمز۔ فرانسیسی وزیرخارجہ جن ایف لودریاں نے سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے میزائل و ڈرونز حملوں کو خطے کا ٹرننگ پوائنٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ان کی شرکت کا بنیادی مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی کو کم کرانا ہے۔ فرانس کے وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ ان کی اولین ترجیح یہ نہیں ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی کے مابین ملاقات ہوجائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اس ضمن میں جو فریقین موجود ہیں ان کے درمیان بات چیت ہو اور جارحیت کم کرنے کے معاملات زیر غور لائے جائیں۔ عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فرانس کے وزیر خارجہ جن ایف لودریاں نے یہ بات نیویارک میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی حقیقت سے آشنائی بہت زیادہ ضروری ہے تاکہ اجتماعی طور پر جواب دیا جا سکے۔

فرانس پہلے ہی سعودی عرب کے شہروں بقیق اور خریص ہجرہ میں واقع ارامکو کمپنی کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی تحقیقات میں معاونت کے لیے اپنے ماہرین بھیج چکا ہے۔ سعودی عرب میں تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے فوری بعد فرانس کے صدر عمانوئل ماکروں نے اعلان کیا تھا کہ فرانس حملوں کا مقابلہ کرنے میں سعودی عرب اور اس کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری حوثی باغیوں نے قبول کی تھی جب کہ امریکہ نے ابتدا ہی میں ان کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ حملوں میں براہ راست ایران ملوث ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکی الزامات کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ، ایران کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے بے بنیاد الزامات عائد کررہا ہے۔

تیل تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے بعد سعودی وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ارامکو کی دونوں تنصیبات کو شمالی علاقے کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملوں میں استعمال ہونے والے مواد کی ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد بھی یہ بات کہی گئی کہ وہ ایران سے تعلق رکھتا ہے۔ فرانس نے گزشتہ دنوں بھی امریکہ اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی اس وقت کم کرانے کی کوشش کی تھی، جب جی -7 سربراہی کانفرنس میں اچانک ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف پہنچ گئے تھے۔ کانفرنس فرانس میں منعقد ہوئی تھی جس میں شرکت کے لیے امریکی صدر سمیت دیگر سربراہان مملکت بھی موجود تھے۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی کانفرنس میں شریک دیگر اعلیٰ شخصیات اور مندوبین سے سائیڈ لائن پر بات چیت ہوئی جب کہ اہم ملاقات فرانس کے صدرعمانوئل ماکروں سے ہوئی تھی۔ دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈالنے والے اس اقدام کا سحر اس وقت ٹوٹا تھا، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ جواد ظریف کو اس میں مدعو کرنے سے قبل فرانس کے صدر نے ان سے باقاعدہ اجازت لی تھی۔ انہوں نے ساتھ ہی جواد ظریف کی شرکت کا خیرمقدم بھی کیا تھا تاہم ملاقات کے امکان کو رد کردیا تھا۔
 
خبر کا کوڈ : 817780
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب