0
Monday 23 Sep 2019 20:52
جو اسلام ہم مانتے ہیں وہ محمد ﷺ کا ہے

امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر پاکستان نے بہت بڑی غلطی کی، عمران خان

انتہاء پسند یا معتدل اسلام جیسی کوئی چیز نہیں
امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر پاکستان نے بہت بڑی غلطی کی، عمران خان
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں شامل ہوکر بہت بڑی غلطی کی۔ وزیراعظم عمران خان نے امریکی کونسل فار فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2008ء میں امریکا آیا تو ڈیموکریٹس کو بتایا تھا کہ افغان مسئلے کا فوجی حل نہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار لوگوں نے جانیں قربان کیں، 200 ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔ عمران خان نے کہا کہ سوویت فوج نے افغانستان میں جنگ کے دوران 10 لاکھ شہریوں کو ہلاک کیا، پاکستان میں 27 لاکھ افغان پناہ گزین رہ رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیورنڈ لائن برٹش حکام نے بنائی تھی، اب ہم پاک افغان سرحد پر باڑ لگا رہے ہیں، سمجھتا ہوں کہ افغان معاملہ بہت مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ طالبان پورے افغانستان کو کنٹرول کرسکتے ہیں، افغان شہری 40 سال سے مشکل صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں طالبان زیادہ مضبوط ہیں ان کا مورال بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو ملاقات میں بتاؤں گا کہ جنگ افغان مسئلے کا حل نہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں طالبان سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن افغان حکومت نے منع کر دیا، یقین ہے کہ یہ وہ طالبان نہیں جو 2001ء میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں جنگ مخالف ہوں، جنگ مسائل کا حل نہیں ہوتی، ہم اپنے پڑوس میں مزید کسی تنازع کے متحمل نہیں ہوسکتے، طالبان سے بات چیت ترک کرنے سے پہلے پاکستان سے مشورہ کرلیا جاتا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ میں صدر ٹرمپ کو طالبان سے مذاکرات بحال کرنے پر قائل کرنے کی کوشش کروں گا، مذاکرات اورجنگ ایک ساتھ ہوں تومسائل پیدا ہوسکتے ہیں، اصل بات مستقل مزاجی سے امن کی کوشش جاری رکھنا ہے، افغان امن معاہدہ طے پاجاتا تو ہم طالبان اورافغان حکومت کو ایک ساتھ بٹھاتے۔ گفتگو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ایبٹ آباد کمیشن کا کیا نتیجہ رہا یہ نہیں معلوم، پاکستان اپنے تمام پڑوسی ملکوں سے امن چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی کو دورہ پاکستان کیلئے مدعوکیا ہے، حکومت کی تمام پالیسیوں میں پاک فوج ساتھ ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کے الزام پر اس سے ثبوت مانگے، بھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کردی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اندازہ ہواکہ بھارت ہمیں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی سازش کر رہاہے، پھر میں نے کہا کہ بھارت آر ایس ایس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، امریکی صدر ٹرمپ سے بھارت کے معاملے پر بات کی، بھارت میں انتخابی مہم پاکستان مخالفت کو بنیاد بنا کر چلائی گئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے مزید کہا کہ بھارت نے کرفیولگا کر 80 لاکھ کشمیریوں کو گھروں میں نظر بند کر رکھا ہے، عالمی برادری بھارت کو کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا کہے، اقلیتوں کو پاکستان میں برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان مذاکرات کی میز پر بیٹھے تو بھارت نہیں آتا، برصغیر کا سب سے بڑا مسئلہ غربت اور ماحولیاتی تبدیلی ہے، ہم اپنی سر زمین پر کسی دہشت گرد گروپ کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

عمران خان نے کہا کہ بھارتی حکومت صرف آر ایس ایس کے ایجنڈا پر چل رہی ہے، جب ہم بین الاقوامی ثالثی کی بات کرتے ہیں تو بھارت کہتا ہے کشمیر دوطرفہ مسئلہ ہے، جب ہم دوطرفہ بات چیت چاہتے ہیں تو بھارت مذاکرات سے انکار کردیتا ہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد بغیر کسی تحقیق کے بھارت نے فوراً پاکستان پرالزام لگا دیا، بھارت درست سمت میں نہیں جا رہا، بھارت گاندھی اور نہرو کا ملک نہیں رہا۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ چین نے کبھی ہماری خارجہ پالیسی میں مداخلت نہیں کی، چین نے ہم سے ایسے کوئی مطالبات نہیں کیے جن سے ہمارا اقتدارمتاثر ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومتیں معیشت کی سمت درست کرنے میں ناکام رہیں، چین ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے معاشی حالات بہتر کرنے میں مدد کی، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ سے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین نے ڈیفالٹ سے بچنے کیلئے پاکستان کی مدد کی، گھر کو چلانے کیلئے بھی اخراجات کم اورآمدن بڑھانا ہوتی ہے، ماضی کی حکومتوں کی معاشی ناکامی کے باعث آئی ایم ایف جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ میرا منشور قانون کی حکمرانی اور کمزوروں کی مدد کرنا ہے، دیہی خواتین کو غربت سے نکالنے کیلئے پروگرام پر کام کر رہے ہیں، خواتین، اقلیتوں کے تحفظ کے قوانین موجودہیں، ان پرعمل درآمد کمزور ہے۔ عمران خان نے کہا کہ بدقسمتی سے ماضی میں ہمارے حکمرانوں نے خود کو قانون سے بالا تر رکھا، ماضی میں بڑے مجرموں کو سزا نہیں ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے اقدامات کررہے ہیں، کرتارپور ایسا ہی اقدام ہے، اسلام ایک ہی ہے، اکثریت اعتدال پسند ہے اور ایک چھوٹی سی تعداد انتہا پسند ہے، اسلام میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جمہوری حکومتیں اخلاقی جواز کی بنیاد پر ہی قائم ہوتی ہیں لیکن مودی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے کو فالو کر رہی ہے۔ انڈین حکومت نے پاکستان دشمنی انتخابی مہم میں جیت کے لیے استعمال کی۔ انتخابات کے بعد ہم نے ایک بار پھر مودی کو مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کی پیشکش کی، تاہم بھارت نے بغیر تحقیقات کے پلواما واقعے کا الزام پاکستان پر لگا دیا۔ ایک اہم سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اسلام دو نہیں ایک ہے۔ جو اسلام ہم مانتے ہیں وہ محمد ﷺ کا ہے، انتہا پسند یا معتدل اسلام جیسی کوئی چیز نہیں ہے۔ اسلام میں اقلیتوں اور خواتین کے حقوق موجود ہیں لیکن عملدرآمد کمزور ہے۔ اسلام نے اقلیتوں کو برابر کے حقوق دیے ہیں۔ بد قسمتی سے ہم مدینہ کی ریاست سے دور چلے گئے۔ مدینہ کی ریاست میری آئیڈیل ریاست ہے۔
خبر کا کوڈ : 817916
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب