0
Tuesday 24 Sep 2019 18:19
امریکہ کے بعد یورپ بھی اپنے جوہری معاہدے سے پھِر گیا

ایران کیخلاف بےبنیاد الزامات پر مبنی جرمنی، فرانس اور برطانیہ کا مشترکہ بیان

ایران کیخلاف بےبنیاد الزامات پر مبنی جرمنی، فرانس اور برطانیہ کا مشترکہ بیان
اسلام ٹائمز۔ فرانسیسی صدر عمانوئیل میکرون، جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے امریکی شہر نیویارک میں ہونیوالے اقوام متحدہ کے سربراہان مملکت کے اجلاس میں شرکت کے بعد مشترکہ بیان میں ایران کے ساتھ ہونیوالے جوہری معاہدے (JCPOA) کو کاغذ پر باقی رہ جانیوالی ایک تحریر قرار دیتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اشتعال انگیز اقدامات کو چھوڑ کر گفتگو کا راستہ اختیار کرے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق تینوں ممالک کے مشترکہ بیان میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات "آرامکو" پر حملے کا ذمہ دار ایران ہے جبکہ برطانوی میڈیا نے بھی اس بےبنیاد الزام کو نشر کرتے ہوئے اس پر کوئی تحقیق و تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیراعظم نے نیویارک کے لئے عازم سفر ہوتے ہوئے بھی یہ دعویٰ کیا تھا کہ زیادہ تر احتمالات کے مطابق سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملے کا ذمہ دار ایران ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ برطانیہ اپنے یورپی حلیفوں اور امریکہ کے ہمراہ "آرامکو" پر حملے کا جواب دینے کیلئے اقدام اٹھائے گا۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کیساتھ وابستہ بین الاقوامی این جی اوز اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ بیگناہ یمنی شہری گذشتہ 4 سالوں سے امریکی و یورپی بموں اور جنگی سازوسامان کے ذریعے مسلسل نشانہ بنائے جا رہے ہیں جبکہ یمن میں دسیوں ہزار عام شہریوں کے قتل عام کے باوجود یورپی ممالک اور امریکہ نہ صرف سعودی عرب کو یمنی بیگناہ شہریوں کے قتل عام سے نہیں روک رہے بلکہ یمن پر سعودی عرب کے حملوں کے بڑھ جانے کیساتھ ساتھ اُسے مزید بم اور اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔

برطانوی میڈیا میں نشر ہونیوالی رپورٹس کے مطابق برطانوی حکومت نے اپنی سپریم کورٹ کی جانب سے سعودی عرب کو اسلحہ نہ بیچنے کے حکم کے باوجود، سعودی عرب کو اسلحے کی سپلائی جاری رکھی ہوئی ہے، جبکہ برطانیہ میں انسانی حقوق کی نگرانی اور اسلحے کی تجارت کیخلاف سرگرم تنظیموں کے کارکنوں نے میڈیا کو بتایا کہ سعودی عرب کیطرف سے یمن پر جنگ مسلط کئے جانے کے وقت سے تاحال، 4 سال سے زائد عرصے کے دوران برطانیہ نے سعودی عرب اور اس کے فوجی اتحادیوں کو 5 بلین 300 ملین پونڈ کے بم اور دوسرا اسلحہ فروخت کیا ہے۔ اسی طرح یمن میں انسانی حقوق کی نگرانی کرنیوالے ماہرین کے سربراہ چارلز گرووی نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کو سعودی عرب کو سب سے زیادہ اسلحہ فراہم کرنیوالے ممالک قرار دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 818125
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب