0
Wednesday 25 Sep 2019 08:04

چین کی طرف سے امریکہ کیساتھ تجارتی زیادتیوں کے دن ختم ہوگئے، ٹرمپ کا دعویٰ

چین کی طرف سے امریکہ کیساتھ تجارتی زیادتیوں کے دن ختم ہوگئے، ٹرمپ کا دعویٰ
اسلام ٹائمز۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا ہے کہ چین کی جانب سے تجارت میں ناجائز فائدہ اٹھانے کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جنرل اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ بیجنگ کو چاہیے کہ ہانگ کانگ میں جمہوریت پر مبنی ماحول کو تحفظ فراہم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل عرصے سے تجارتی زیادتی برداشت، نظرانداز اور بعض صورتوں میں ان کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ عالمگیریت کی وجہ سے عالمی برادری کے رہنماؤں نے اپنے ہی قومی مفادات کو نظرانداز کیا۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ جہاں تک امریکا کا تعلق ہے، تجارتی زیادتیوں کے دن ختم ہوگئے۔

مزید برآں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ بھرپور انداز میں جائزہ لے رہی ہے کہ چین کس طرح ہانگ کانگ کے بحران کو سنبھال رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا امید کرتی ہے کہ چین کی حکومت معاہدے کی پاسداری کرے اور ہانگ کانگ کی آزادی اور عدالتی نظام اور جموری حقوق کا تحفظ کرے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال 22 مارچ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات کی درآمدات پر تقریباً 60 ارب ڈالر کے محصولات عائد کرنے کے حکم نامے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے بعد چین نے انتقاماً 128 امریکی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں 25 فیصد تک اضافہ کردیا تھا۔ دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر متعدد مرتبہ درآمد ڈیوٹی عائد کی گئی جس کے بعد تجارت محاذ آرائی کو ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح اجلاس ہوا۔ یکم اگست کو امریکا اور چین نے شنگھائی میں تعمیری ملاقات کے بعد تجارت کے حوالے سے مزید مذاکرات کے لیے ستمبر میں امریکا اجلاس پر اتفاق کیا تھا۔

چینی خبر ایجنسی نے حکام کا حوالہ دے کر رپورٹ کیا تھا کہ دونوں جانب سے معیشت اور تجارت کے مختلف پہلووں کے حوالے سے مشترکہ مفادات کے اہم معاملات پر کھل کر اور تعمیری بات کی۔ دوسری جانب وائٹ ہاؤس کی جانب سے بھی ملاقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ چینی حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرادی ہے کہ امریکا زرعی مشینری کو درآمد کیا جائے گا جس سے امریکی صنعت میں کچھ بہتری آئے گی۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 اگست کو چین کی جانب سے مصنوعات کی درآمد پر 75 ارب ڈالر کا نیا ٹیرف عائد کرنے کے فیصلے کے بعد امریکی کمپنیوں کو فوری طور پر بیجنگ سے واپسی کا حکم دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چین کی ضرورت نہیں ہے اور ان کے بغیر ہمارے لیے اچھا ہوگا، چین نے دہائیوں سے ہر سال بعد امریکا سے بڑی تعداد میں پیسے بنائے اور چوری کیے، جس کو روک دیا جائے گا۔
خبر کا کوڈ : 818206
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب