0
Wednesday 25 Sep 2019 20:16

اللہ کے رسولﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، کوئی توہین کرے تو ہمارے دلوں میں درد ہوتا ہے، عمران خان

اللہ کے رسولﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، کوئی توہین کرے تو ہمارے دلوں میں درد ہوتا ہے، عمران خان
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم عمران خان نے نیویارک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذہب کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے، مذہبی دہشت گردی کے پیچھے حقیقت کی بہ جائے سیاست ہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیے کا الزالہ کیا جانا ضروری ہے۔ تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ ہیڈ کوارٹرز میں نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام کے سلسلے میں کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اس کانفرنس کا اہتمام پاکستان، ملائیشیا اور ترکی کی جانب سے مشترکہ طور پر کیا گیا، ترک صدر رجب طیب اردوان بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ وزیر اعظم نے اسلامو فوبیا پر خصوصی بات کی، کہا مغربی دنیا میں اسلامی فوبیا سے متعلق بہت کچھ دیکھا، اسلامی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نعرے مغربی دنیا کے رہنماؤں نے گھڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس کا غلط تاثر لیا جاتا ہے، اسلام کو سب سے زیادہ نقصان نائن الیون کے بعد دہشت گردی سے جوڑنے پر پہنچا۔ انھوں نے مزید کہا عالمی رہنماؤں تک نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑا، مذہبی دہشت گردی کے پیچھے حقیقت کے بجائے سیاست ہے، کوئی ہندو ازم میں خود کش حملے پر بات نہیں کرتا، تمل ٹائیگرز کے اور دوسری جنگ عظیم میں جہازوں پر حملوں کو کسی نے مذہب سے نہیں جوڑا، دنیا کی ہر دہشت گردی کا تعلق سیاست سے ہے۔ عمران خان نے کہا نائن الیون سے پہلے 75 فی صد خود کش حملے تمل ٹائیگرز نے کیے جو ہندو تھے، نیویارک میں بیٹھ کر کوئی کیسے بتا سکتا ہے کہ کون انتہا پسند کون معتدل ہے، مغرب میں خود کش حملہ ہو تو مسلمان پریشان ہو جاتے ہیں کہ کہیں یہ مسلم نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے بعد امریکی صحافی نے فون کر کے کہا تمہیں شرم نہیں آتی، جواب دیا دنیا میں کوئی مسلمان غلط کام کرے تو سب مسلمانوں کا اس سے کیا تعلق۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا توہین رسالت پر مسلمانوں کو تکلیف ہوگی کیوں کہ حضورﷺ مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہیں، اللہ کے رسولﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، کوئی توہین کرے تو ہمارے دلوں میں درد ہوتا ہے، یورپی معاشرے مذہب کو ایسے نہیں دیکھتے جیسے ہم دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہولو کاسٹ پر یہودیوں کے احساسات کا خیال رکھا جاتا ہے، توہین رسالت سے متعلق بھی مسلمانوں کے احساسات کا خیال رکھا جائے، ہر کچھ دن بعد یورپ یا امریکا میں کوئی توہین آمیز کام ہو جاتا ہے، مسلمان رد عمل دیں تو کہتے ہیں یہ کیسا انتہا پسند اسلام ہے، میں جنرل اسمبلی سے خطاب میں توہین رسالت کا معاملہ بھی اٹھاؤں گا۔
خبر کا کوڈ : 818359
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب