0
Wednesday 25 Sep 2019 23:11

پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی ازسرنو مرتب کرنا ہوگی، اسداللہ بھٹو

پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی ازسرنو مرتب کرنا ہوگی، اسداللہ بھٹو
اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی نائب امیر اسد اللہ بھٹو ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ تاریخی لحاظ سے کشمیر سندھ کا حصہ ہے، جو کبھی بھارت کا حصہ نہیں رہا، خود انڈیا کے دستور میں لکھا ہے کہ کشمیر کی الگ حیثیت ہوگی، کشمیریوں کو صرف مسلمان ہونے کی سزا دی جا رہی ہے، آج کشمیر کے مسلمان پاکستان کے طرف دیکھ رہے ہیں، ٹرمپ نے مودی کے ساتھ جلسہ کرکے ہمارے زخموں پر نمک پاشی کی ہے، اس لئے اب پاکستان کو بھی اپنی خارجہ پالیسی ازسرنو مرتب کرنا ہوگی، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیکورٹ بار حیدرآباد میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالوحید قریشی، ضلعی امیر حافظ طاہر مجید، صوبائی سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا، ظہیر الدین شیخ و دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ اسد اللہ بھٹو نے کہا کہ بھارت 66 ڈیم غیر قانونی طور پر بنا رہا ہے، اگر کشمیر ہاتھ سے نکل جائے تو دریائے سندھ خشک اور سندھ بنجر ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور کشمیر کا تعلق اٹوٹ ہے، کشمیر کی تکمیل پاکستان کیلئے ضروری ہے، کشمیری سندھ کی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

اسداللہ بھٹو نے کہا کہ ہم پاکستان کے ہندو، سکھ سمیت تمام ان اقلیتیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، جنہوں نے ہر محاذ پر مودی کی جنونیت کی مخالفت کی، شملہ ماہدے کے آرٹیکل 5 پر لکھا ہے کہ پاکستان اور بھارت یکطرفہ طور پر کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ آج جو کشمیریوں پر مظالم ہو رہے ہیں، اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، کشمیر کی بہنیں، بیٹیاں آج پاکستان کی طرف دیکھ رہی ہیں، وہ پاکستانی فوج کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے مودی کے ساتھ جلسہ کرکے کشمیریوں اور پاکستانیوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے، اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں بھی اپنی خارجہ پالیسی ازسرنو تشکیل دینا ہوگی۔ اسداللہ بھٹو نے بیرون ملک پاکستانی، کشمیریوں اور سکھوں کی جانب سے مسئلہ کشمیر کو زندہ کرنے اور مودی کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے ترکی کے صدر طیب اردگان کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
خبر کا کوڈ : 818372
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے