0
Tuesday 1 Oct 2019 02:39

یمن کے محاصرے اور مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے کم پر راضی نہیں ہونگے، انصاراللہ

سعودی جنگی قیدیوں کی تعداد مبہم رہنی چاہیئے، یہ ابہام قیدیوں کے تبادلے میں ہمارے لئے مددگار ثابت ہوگا
یمن کے محاصرے اور مسلط کردہ جنگ کے خاتمے سے کم پر راضی نہیں ہونگے، انصاراللہ
اسلام ٹائمز۔ یمن کی اسلامی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کے رکن اور یمنی "قومی نجات" حکومت کی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد عبدالسلام نے عرب نیوز چینل المیادین کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی فورسز کی تازہ فتح یمن کیخلاف جارحیت کی مرتکب ہونیوالی تمام قوتوں کیلئے ایک واضح پیغام ہے جبکہ یمنی حکومت صرف وہی راستہ اختیار کرے گی, جس سے یمن پر مسلط کردہ جنگ اور یمن کا کیا جانے والا محاصرہ ختم ہو۔ یمنی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ نے یمنی "نصر من اللہ" آپریشن کے دوران دشمن کیطرف سے لڑنے والے یمنی فوجیوں کی وسیع ہلاکت کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ "نصر من اللہ" آپریشن کی کامیابی کے بارے میں دیئے گئے اعداد و شمار اس آپریشن کی وسعت سے کہیں کم ہیں کیونکہ یہ آپریشن تاحال جاری ہے۔

انصاراللہ کے رکن محمد عبدالسلام نے جارح ملک سعودی عرب کیطرف سے سیز فائر کیلئے کوئی عملی اقدام نہ اٹھائے جانے کے بارے میں کہا کہ امریکہ و برطانیہ کیطرف سے پیغامات ملے ہیں کہ سعودی عرب سیز فائر چاہتا ہے, لیکن اس حوالے سے تاحال کوئی عملی اقدام اٹھایا نہیں گیا۔ انہوں نے کہا کہ "نصر من اللہ" آپریشن میں یمن کی سرزمین پر جارحیت کی مرتکب ہونیوالی تمام قوتوں کیلئے یہ واضح پیغام موجود ہے کہ ہم اسی طرح سے ان کا پیچھا کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جنگی قیدیوں کیساتھ احترام اور انسانیت کے دائرے میں پیش آتے ہیں جبکہ سعودی فوجی اتحاد ہمارے قیدیوں کو ٹارچر اور تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

محمد عبدالسلام نے کہا "نصر من اللہ" ایک وسیع اور پیشرفتہ آپریشن ہے، جو تاحال جاری ہے، تاہم اس آپریشن کے دوران دشمن کے مارے جانیوالے اور قیدی ہونیوالے فوجیوں کے درمیان سعودی افسر بھی موجود ہیں، کیونکہ سعودی عرب بڑی فوجی کارروائیوں کے دوران یمنی افسروں پر اعتماد نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات بھی یمن پر جارحیت کے مرتکب ہونیوالے ممالک میں سے ایک ہے، جس کو ہماری نصیحت ہے کہ جلد از جلد اس جنگ سے علیحدگی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے۔
خبر کا کوڈ : 819316
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب