0
Saturday 5 Oct 2019 13:02

او آئی سی نے کشمیریوں کو مایوس کیا، راجہ فاروق

او آئی سی نے کشمیریوں کو مایوس کیا، راجہ فاروق
اسلام ٹائمز۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر ہندوستان کا کبھی حصہ تھا نہ ہے اور نہ ہو گا، 1959ء تک کوئی بھی ہندوستانی اگر مقبوضہ کشمیر آنا چاہتا تو اسے باقاعدہ پرمٹ لینا پڑتا تھا۔ پاکستان کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق رائے شماری کے ذریعے مسلہ کے حل کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ ہندوستان قابض اور جارح ہے، پاکستان کی افواج آزادکشمیر کے شہریوں کی حفاظت اور ہمارے تقدس کی ضامن ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے مسلہ کے حل کے علاوہ کشمیریوں کے لیے کوئی اور فارمولا قابل قبول نہیں، کشمیریوں نے پرامن جدوجہد کے تمام راستے بند ہونے پر مسلح جدوجہد شروع کی۔ وزیراعظم آزادکشمیر پاکستان کے دورے پر آئے سوڈانی فوج کے اعلی آفیسران کے تربیتی کورس کے شرکاء سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری آزادکشمیر لبریشن سیل منصور قادر ڈار نے وفد کو مسئلہ کشمیر اور اس کی موجودہ صورتحال کے بارہ میں بریفنگ دی۔

راجہ محمد فاروق خان نے کہا کہ او آئی سی نے کشمیریوں کو مایوس کیا، ہم نے ہمیشہ امت مسلمہ کی بات کی اور اس کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کیا مگر کشمیر کے معاملے پر اسلامی ممالک میں ماسوائے ترکی، ملائیشیا کسی اور نے کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا۔ کشمیر میں اکثریت مسلمانوں کی ہے اور اسی وجہ سے انتہا پسند ہندو تنظیم کے نمائندے نریندر مودی مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک روا رکھے ہوئے ہیں، ایک ایسے وقت میں جب مقبوضہ وادی کا دنیا سے رابطہ منقطع کر دیا گیا ہے، لوگوں پر نقل و حمل، کاروبار، تعلیم روزگار کے دروازے جبری طورپر بند کر دیے گئے ہیں اور انہیں گھروں میں مقید کر دیا گیا ہے دنیا بالخصوص عالم اسلام سے ہم یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے باسٹھ دنوں سے جاری کرفیو کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرینگے۔ کشمیریوں کا خون سستا نہیں دنیا کو اب نوٹس لینا ہو گا بصورت دیگر خطہ ہولناک جنگ کی طرف جا رہا ہے۔

وزیراعظم آزادکشمیر نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کبھی مسئلہ کو دوطرفہ نہیں کہا پاکستان نے کبھی کشمیر کی زمین کی بات نہیں کی بلکہ ہمیشہ یہ کہا کہ کشمیریوں کو ان کی مرضی کے مطابق مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔ مقبوضہ کشمیر میں ابھی تک چودہ ہزار لوگوں کو جن میں بارہ سالہ بچے بھی شامل ہیں ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بھیجا گیا ہے، تمام سیاسی قیادت کو قید کر لیا گیا ہے، اقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کااظہار تو کیا مگر اسے چاہیے کہ وہ اپنی رپورٹس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجے، کشمیری خطے میں عزت و قار سے جینا چاہتے ہیں انہیں ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بسنے والے نہتے افراد کو ہندوستانی افواج نشانہ بناتی ہیں ان کو پریشان کرنے کے لیے ان کی املاک تباہ کی جاتی ہیں، معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کو سنائپر گن سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کشمیری اب آزادی سے کم کسی چیز پر کمپرومائز نہیں کرینگے۔ ہندوستان میں اس وقت نریندر مودی کی حکومت ہے جو انتہا پسند اور ہٹلر کا پیرو کار ہے۔
خبر کا کوڈ : 820260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب