0
Sunday 6 Oct 2019 20:50
متحدہ عرب امارات کو انصاراللہ کیطرف سے ایک اور انتباہ؛

متحدہ عرب امارات، یمن سے اپنی افواج کو مکمل طور پر باہر نکال لے، محمد البخیتی

متحدہ عرب امارات، یمن سے اپنی افواج کو مکمل طور پر باہر نکال لے، محمد البخیتی
اسلام ٹائمز۔ یمن کی اسلامی مزاحمتی تحریک انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی نے عرب نیوز چینل "المیادین" کو انٹرویو دیتے ہوئے یمن میں متحدہ عرب امارات کی تازہ ترین فوجی نقل و حرکت پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ابوظہبی کو ایک مرتبہ پھر متنبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ یمن میں متحدہ عرب امارات کی فوجی نقل و حرکت پر خاموش نہیں رہیں گے کیونکہ یہ فوجی نقل و حرکت ہمارے ملکی مفاد کے خلاف ہے لہذا متحدہ عرب امارات، یمن سے اپنی تمامتر افواج کو مکمل طور پر باہر نکال لے۔

ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے متحدہ عرب امارات اپنی افواج اور بھاری جنگی اسلحے کو یمن میں منتقل کر کے یمن کے جنوب مغربی صوبے "تعز" میں نیا محاذ کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز جنوبی یمن کے "عدن" نامی علاقے میں واقع "الزیت" بندرگاہ پر ایک اماراتی بحری جہاز لنگرانداز ہوا جس میں سے 100 فوجی گاڑیوں سمیت بھاری فوجی سازوسامان یمنی سرزمین پر اتارا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یمنی علاقے "المخا" میں واقع "الطون" ورکشاپس کے پیچھے یمنی سواحل پر جنگی بحری بیڑوں کیلئے متحدہ عرب امارات کیطرف سے ایک نئی بندرگاہ بھی بنائی گئی۔

انصاراللہ کی سیاسی کونسل کے رکن محمد البخیتی کا کہنا تھا کہ یمن کی سویلین بندرگاہ "المخا" کا فوجی استعمال بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکہ المخا میں ہی اماراتیوں کیطرف سے ایک نئی فوجی بندرگاہ تعمیر کرنے کا اقدام ہمارے ملک میں اپنی موجودگی باقی رکھنے کی اُنکی بُری نیت کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ عقب نشینی کے ارادے کو۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کیطرف سے 100 فوجی گاڑیاں اور بھاری توپخانہ "تعز" میں داخل ہو چکا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام سراسر غلطی پر مشتمل ہے۔

محمد البخیتی نے انصاراللہ کیطرف سے پش کی گئی، جوابی حملے نہ کرنے پر مشتمل پیشکش کے باوجود یمن پر سعودی عرب کے حملوں کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جوابی حملوں کے مکمل خاتمے کے عوض سعودی عرب کے حملوں میں جزوی کمی کو ہرگز قبول نہیں کریں گے کیونکہ جزوی جنگ بندی کوئی معنا نہیں رکھتی اور یہ منطق بھی غیرقابل قبول ہے لہذا جنگ بندی مکمل طور پر لاگو ہونی چاہئے۔
خبر کا کوڈ : 820402
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب