1
Sunday 6 Oct 2019 11:06

بھارت مخالف نعروں کی گونج میں مظاہرین کا ایل او سی کی طرف مارچ

بھارت مخالف نعروں کی گونج میں مظاہرین کا ایل او سی کی طرف مارچ
اسلام ٹائمز۔ بھارت کے زیرحراست حریت رہنما یٰسین ملک کی تنظیم جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے زیراہتمام لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی جانب ہزاروں افراد کا قافلہ آزادکشمیر کے علاقے گڑھی دوپٹہ پہنچ گیا۔ ذراِئع کے مطابق جے کے ایل ایف نے آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ایل او سی کی جانب پرامن آزادی مارچ کا دوبارہ آغاز کیا اور بھارت مخالف نعرے بازی کی گئی۔ مارچ میں شریک افراد نے 4 اکتوبر کو آزادکشمیر کے مختلف علاقوں سے موٹرسائیکلوں اور گاڑیوں کے ذریعے ایل او سی کی جانب سفر کا آغاز کیا تھا اور جمعہ کی شب مظفر آباد میں گزارنے کے بعد دوبارہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔

آزادی مارچ کے شرکا گزشتہ روز ظفرآباد میں سیاسی سرگرمیوں کے مرکز اپر اڈا پر جمع ہوئے جس کے بعد چھکوٹھی سیکٹر کی جانب سفر شروع کیا گیا۔ اس دوران مارچ کے شرکا نے سابق چیئرمین جے کے ایل ایف امان اللہ خان اور موجودہ چیئرمین یٰسین ملک کی تصاویر بھی تھامی ہوئی تھیں اور ساتھ ہی ‘ کشمیر بنے گا خود مختار‘ کے نعرے بھی بلند کیے۔ علاوہ ازیں مارچ میں شریک افراد نے ایک بڑا بینر بھی تھاما ہوا تھا جس پر لکھا تھا ’ اقوام متحدہ: کشمیر کو آپ کی فوری توجہ کی ضرورت ہے‘۔ کچھ شرکا کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر درج تھا ’ اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق رائے دہی دلانے کے لیے جموں و کشمیر کو کنٹرول سنبھالے‘۔

مارچ کے شرکا جب بینک روڈ سے گزرے تو تجارتی رہنماؤں شوکت نواز میر اور عباس قادری نے ان پر گلاب کی پتیاں بھی نچھاور کیں۔ دو روز قبل آزادکشمیر کے وزرا نے جے کے ایل ایف کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور مارچ کے شرکا سے ایل او سی کے قریب نہ جانے اور اسے پار نہ کرنے کی اپیل کو دہرایا تھا۔ جس پر جے کے ایل ایف کے رہنماؤں نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ ایل او سی کی جانب سفر کے دوران پُرامن رہیں گے۔ جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے مرکزی ترجمان محمد رفیق ڈار نے میڈیا کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر گروپ برائے پاکستان اور بھارت نے ان سے رابطہ کیا تھا اور ان کا موقف معلوم کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے مبصرین کو پُرامن مارچ کے مقاصد سے آگاہ کرنے کے علاوہ ہم نے اقوام متحدہ سے مقبوضہ جموں کشمیر کا کنٹرول سنبھالنے کے لیے امن فورسز بھیجنے اور اقوام متحدہ کی جانب سے ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ دہرایا‘۔

محمد رفیق ڈار نے کہا کہ ’ اقوام متحدہ کو 21 اپریل 1948ء کو منظور کی گئی قرارداد نمبر 47 کا پیرا نمبر 2 بھی یاد دلایا جس میں ایل او سی پار کرنا ایک قانونی سرگرمی قرار دیا گیا تھا‘۔ انہوں نے کہا کہ جے کے ایل ایف نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اقوام متحدہ، پاکستان اور بھارت کو پرامن مارچ کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال نہ کرنے پر رضامند کرے۔ علاوہ ازیں مارچ کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ایل او سی کے قریب چناری کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ ایل او سی سے 8 کلومیٹر کے فاصلے پر جسکول کے مقام پر آزاد کشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے ہر قسم کی گاڑیوں کا راستہ روکنے کے لیے کنٹینرز بھی لگائے گئے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820409
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب