0
Sunday 6 Oct 2019 20:51

سعودی شاہ کے ذاتی محافظ کا قتل، سعودی عرب میں نئی ہلچل

سعودی شاہ کے ذاتی محافظ کا قتل، سعودی عرب میں نئی ہلچل
اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب میں آزاد صحافت پر شدید پابندیوں اور سعودی حکومت پر تنقید کرنیوالے صحافیوں کے "جمال خاشقجی" جیسے انجام کے باوجود سوشل میڈیا پر تجزیاتی کالمز میں انکشافات کرنیوالے معروف سعودی یوزر "مجتہد" نے 29 ستمبر کو سعودی شاہی محل میں پراسرار طور پر قتل ہونیوالے والے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ذاتی محافظ بریگیڈیئر جنرل عبدالعزیز الفغم، جنکو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنا مخالف جانتے تھے، کے قتل کے بارے میں انکشافات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس یوزر نے لکھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان آجکل مقتول بریگیڈیئر جنرل عبدالعزیز الفغم کے قبیلے کو کنٹرول کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں، جبکہ حقائق بتاتے ہیں کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اس یوزر کا لکھنا ہے کہ وہ وقت کیساتھ ساتھ مقتول سعودی بریگیڈیئر جنرل عبدالعزیز الفغم کے قبیلے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے رہیں گے۔

قبل ازیں اس حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ مقتول سعودی بریگیڈیئر جنرل کے "مطیر" نامی قبیلے نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اپنے ایک اعلٰی سطحی وفد کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے پاس بھیج کر اُن سے مقتول عبدالعزیز الفغم کے پراسرار قتل کی تفصیلات طلب کرے۔ منابع کا کہنا ہے کہ قبیلہ مطیر نے یہ حتمی فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ محمد بن سلمان کے علاوہ سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو بھی اس بات پر مجبور کرے گا کہ وہ اس پراسرار قتل میں موجود گتھیوں کو سلجھا کر قبیلہ مطیر کو حاصل ہونیوالے تحقیقی نتائج سے آگاہ کریں۔ دوسری طرف سعودی حکومت مخالف سیاسی سرگرم لیڈر عبدالرحمٰن المطیری نے بھی اپنی ایک ویڈیو جاری کی ہے، جس میں سعودی شاہ کے ذاتی محافظ عبدالعزیز الفغم کے قتل کی ذمہ داری سعودی شاہی نظامِ حکومت پر ڈالی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس قتل کے پیچھے شاہی سیاسی مقاصد چھپے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820412
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب