0
Sunday 6 Oct 2019 20:52

جنرل قاسم سلیمانی دہشتگردی کیخلاف لڑنے والے کامیاب ترین کمانڈر ہیں، ڈاکٹر کیون بیرٹ

جنرل قاسم سلیمانی دہشتگردی کیخلاف لڑنے والے کامیاب ترین کمانڈر ہیں، ڈاکٹر کیون بیرٹ
اسلام ٹائمز۔ امریکی تاریخ دان، مصنف اور تجزیہ نگار ڈاکٹر کیون بیرٹ (Dr. Kevin Barrett) نے ایرانی سپاہِ قدس کے کمانڈر، جنرل قاسم سلیمانی کو دہشتگردی کیخلاف لڑنے والا ایک کامیاب ترین کمانڈر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی دہشتگردی کے خلاف جنگ کی دنیا میں کامیاب ترین کمانڈر ہیں کیونکہ داعش کے خلاف انکی جنگ ایک سچی جنگ تھی جس کیساتھ داعش کیخلاف امریکی منافقانہ جنگ کا کسی طور پر موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ داعش کو امریکہ خود ہی مدد بھی فراہم کرتا تھا۔

امریکی وینسٹن یونیورسٹی (Winston University) کے استاد اور متعدد کتابوں کے مصنف ڈاکٹر کیون بیرٹ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمان نے امریکیوں کے برخلاف ایسی عوامی فورسز کی کمانڈ اپنے ہاتھ میں لی ہے جو مقامی ہیں اور انکی فورسز داعش کو ختم کرنے کا سچا جذبہ رکھتی ہیں نہ یہ کہ صرف تنخواہ لینے کیلئے یہ کام کر رہی ہوں، جبکہ امریکی کمان میں لڑنے والی فورسز، اگر ہم امریکیوں کی بات نہ کریں تب بھی، صرف تنخواہوں کے چکر میں ہیں جن کے بارے میں (امریکی ریاست ایریزونا کے سینیٹر) جان کیل (Jon Llewellyn Kyl) کہتے ہیں کہ "یہ کرائے کے ٹٹو کسی کام کے نہیں، وہ ہمیشہ بکھرے رہتے ہیں اور لڑنے کیلئے انکے پاس کچھ بھی نہیں، ماسوائے اسکے کہ وہ کہتے ہیں تنخواہ لیتے رہو اور اپنی جان بچاتے رہو کیونکہ یہ تنخواہ اتنی ہی ہے کہ وہ تمہارے لئے کسی کو مار تو دیں گے لیکن خود نہیں مریں گے"۔

امریکی مصنف ڈاکٹر کیون بیرٹ کہتے ہیں کہ جنرل قاسم سلیمانی کی فورسز اُن کرائے ٹٹوؤں اور خود داعشی جنگجوؤں کے برخلاف (جو سعودیہ سے پیسے لیکر لڑتے ہیں)، میدان میں اپنی جان دینے کیلئے آتے ہیں اور جنرل قاسم سلیمان کی فورسز یمن میں انصاراللہ کی فورسز کیطرح ہیں جو خیانتکاروں کے بھیجے گئے کرائے کے ٹٹوؤں کیساتھ انتہائی بہادری کیساتھ لڑتے ہیں۔ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ جنرل قاسم سلیمانی نے امریکی و اسرائیلی سازشوں کے مقابلے میں اسلامی مزاحمت کو کس قدر مضبوط کر رکھا ہے، حزب اللہ لبنان کیساتھ اسرائیل کی 33 روزہ جنگ کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے اپنے ایک نادر انٹرویو میں اس 33 روزہ جنگ میں اپنے کردار کیطرف اشارہ کیا ہے درحالیکہ سالہا قبل مغربی ذرائع یہ اقرار کر چکے تھے کہ 2006ء میں حزب اللہ کے مقابلے میں صیہونیوں کی ذلت آمیز شکست جنرل قاسم سلیمانی کی کمانڈ کا نتیجہ ہے جبکہ دنیا کو آج پتہ چلا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی نے اس جنگ کا تقریبا پورا وقت لبنان میں سید حسن نصراللہ اور عماد مغنیہ (جو 2008ء میں شہید کر دیئے گئے) کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے گزارا ہے۔

ڈاکٹر کیون بیرٹ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کی کامیابیاں، خطے میں ایرانی سیاست کی عقلمندی کو ظاہر کرتی ہیں جو خود مختار، اصولی اور صیہونیزم و امپیریلزم کیخلاف مزاحمت میں پرعزم گروہوں کی حمایت پر مشتمل ہے، جبکہ ایران کا یہ رویہ ایسے خودغرض، غیراصولی اور مغرور طاقتوں، جو چند ایک امریکی ڈالرز کے عوض اپنا وطن بیچ ڈالنے پر تیار ہو جاتی ہیں، کیساتھ امریکہ کے اتحاد پر مبنی سیاسی رویے سے کھلم کھلا مخالف ہے۔ انکا کا کہنا تھا کہ اس سیاست کے تنیجے میں یہ "مَن فروش" عناصر امریکہ کے متحد بن جاتے ہیں لیکن چونکہ وہ خود بنیادی طور پر خودغرض اور کرپٹ ہوتے ہیں، امریکہ کیلئے موثر اتحادی ثابت نہیں ہوتے کیونکہ نہ ہی میدان جنگ میں بہادر ہوتے ہیں اور نہ ہی اپنے ملک میں ہردلعزیز۔ انکا کا کہنا تھا کہ اب بھی مغربی دنیا چیخ چیخ کر یہ پوچھ رہی ہے کہ سعودی عرب اپنے 67 بلین ڈالرز کے دفاعی بجٹ کیساتھ ننگے پیر لڑنے والے انصاراللہ کے جنگجوؤں کے مقابلے میں کیسے ہار گئی؟ جواب یہ ہے کہ سعودی فورسز نہ صرف اوپر سے لیکر نیچے تک کرپٹ ہیں بلکہ صیہونزم اور امپیریلزم کے سامنے پوری طرح لیٹ چکی ہیں اور پیسوں سے بھری جیبوں کے علاوہ انکے پاس لیڈرشپ، اصول یا کوئی خاص مکتب فکر نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔
خبر کا کوڈ : 820434
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب