0
Tuesday 8 Oct 2019 21:10
غاصب اسرائیلیوں کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے،

عالمی شیعہ مزاحمتی تحریکوں کیخلاف وسیع پراپیگنڈا مہم شروع کی جائے، صیہونی تھنک ٹینک

عالمی شیعہ مزاحمتی تحریکوں کیخلاف وسیع پراپیگنڈا مہم شروع کی جائے، صیہونی تھنک ٹینک
اسلام ٹائمز۔ غاصب صیہونی رژیم کے اسٹریٹیجک سکیورٹی ادارے (JISS) نے اپنی رپورٹ میں عالمی شیعہ مزاحمتی تحریکوں کیطرف سے اسرائیل کو لاحق خطرات کیطرف اشارہ کرتے ہوئے شیعہ مزاحمتی تحریکوں کے خلاف بڑے پیمانے پر پراپیگنڈا مہم شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک صیہونی تھنک ٹینک "یروشلم اسٹریٹیجی اینڈ سکیورٹی انسٹیٹیوٹ" (JISS) نے اپنی ایک رپورٹ میں عالمی شیعہ مزاحمتی تحریکوں کی جانب سے غاصب صیہونی رژیم اسرائیل کو لاحق شدید خطرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حزب اللہ" سے لے کر عراقی اسلامی مزاحمتی تحریک "النجباء" تک، تمامتر شیعہ مزاحمتی تحریکوں نے اسرائیل کی شمالی سرحدوں پر مشترکہ  پوزینشنز سنبھال رکھی ہیں مزید برآن یہ کہ یمن کی اسلامی مزاحمتی تحریک "انصار اللہ" بھی ہمارے خلاف منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔

صیہونی اسٹریٹیجی اور سلامتی کے ادارے (JISS) کے سربراہ "یوسی منشاروف" نے اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آیت اللہ خمینیؒ کی آرزوؤں پر سپاہِ پاسداران کے کمانڈرز نے 40 سال کام کر کے اس حد کو چھو لیا ہے کہ آج عالمی سطح پر شیعہ عسکری مزاحمتی تحریکوں نے اسرائیل کو  شدید خطرات سے دوچار کر رکھا ہے۔ یوسی منشاروف کا لکھنا ہے کہ عراقی و یمنی شیعہ مزاحمتی گروپس کے رہنماؤں نے حال ہی میں یہ بیان بھی دیا ہے کہ اگر حزب اللہ پر اسرائیل کیطرف سے جنگ مسلط کی گئی تو ہم سید حسن نصراللہ کے شانہ بشانہ جنگ لڑیں گے۔ اس صیہونی تھنک ٹینک نے اپنی رپورٹ کے آخری حصے میں اسرائیلی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسے حالات میں ہماری نصیحت ہے کہ اسرائیلی حکام نفسیاتی جنگ کے ذریعے اسلامی ممالک کے اندر مزاحمتی تحریکوں کے مقام کو گھٹانے کی کوشش کرے۔

اس صیہونی تھنک ٹینک نے اسلامی مزاحمتی تحریکوں کیطرف سے اسرائیل کو لاحق خطرات سے بچنے کیلئے صیہونی حکام کو تاکید کی کہ اسلامی مزاحمتی تحریکوں کے خلاف اسلامی ممالک کے اندر یہ تاثر پیدا کیا جائے کہ شیعہ مزاحمتی گروپس ایران کی ایماء پر اہلسنت مسلمانوں کے قتل عام کیلئے تشکیل دیئے گئے ہیں، علاوہ ازیں اسلامی ممالک کی رائے عامہ میں اس بات کو مضبوط کیا جائے کہ شیعہ مزاحمتی گروپس اپنے ملکی مفاد پر ایرانی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں۔ مزید برآں اس صیہونی تحلیلی ادارے کی رپورٹ میں پیش کردہ پراپیگنڈا مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اسلامی ممالک میں اس سوچ کو رواج دیا جائے کہ شیعہ مزاحمتی گروپس، علاقے کے شیعہ باسیوں کیلئے بھی ناآرامی اور تکلیف کا باعث ہیں کیونکہ ان گروپس کی سرگرمیاں شیعہ کمیونٹی کے جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔
خبر کا کوڈ : 820707
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب