0
Tuesday 8 Oct 2019 20:57

لاہور میں ’’انجمن دوستی پاکستان و ایران‘‘ کا قیام

لاہور میں ’’انجمن دوستی پاکستان و ایران‘‘ کا قیام
اسلام ٹائمز۔ ایرانی قونصلیٹ لاہور میں انجمن دوستی پاکستان و ایران کے قیام کے سلسلے میں ایک نشست ہوئی، جس میں قونصل جنرل ایران لاہور محمد رضا ناظری، ممبر پنجاب اسمبلی سمیرا احمد، وائس چانسلر یونیورسٹی ساوتھ ایشیا میاں عمران مسعود، چیمبر آف کامرس کے سئینر نائب صدر علی حسام اصغر، نائب صدر میاں زاھد جاوید احمد، تنظیم جہانی زنان کی نائب صدر سمیعہ راحیل قاضی اور مختلف طبقہ فکر کے افراد نے شرکت کی۔ قونصل جنرل ایران محمد رضا ناظری کا کہنا تھا کہ اس انجمن دوستی پاکستان و ایران کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، ہم اس کے ذریعے دونوں برادر ممالک ایران اور پاکستان میں دو طرفہ تعلقات میں بھرپور اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ علمی، تجارتی، ثقافتی و سیاحتی وفود کے تبادلے کے علاوہ مختلف قسم کی نمائشیں بھی منعقد کر سکتے ہیں اور اس سلسلے میں ہم اس انجمن کیلئے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

ممبر پنجاب اسمبلی اور دانش سکول سسٹم کی چئیرپرسن سمیرا احمد نے کہا کہ انجمن دوستی پاکستان اور ایران دونوں ملکوں کے تعلقات میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، آج مسلمانوں کو وحدت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، ایرانی کلچر کی تاریخ 3000 سال سے بھی قدیم ہے، ہم کلچر اور تعلیم کے حوالے سے کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس کے سینئیر نائب صدر علی حسام اصغر نے کہا کہ دونوں برادر اسلامی اممالک ایران و پاکستان کے درمیان تجارت کو اہمیت دیتے ہیں اور ہم تجارتی امور میں ہر ممکن اقدامات کرنے کیلئے تیار ہیں، اس سلسلے میں انجمن دوستی پاکستان و ایران کیساتھ کھڑے ہیں۔ یونیورسٹی آف ساوتھ ایشیا کے وائس چانسلر میاں عمران مسعود کا کہنا تھا کہ یہاں تمام مکتبہ فکر کے افراد موجود ہیں، تاجر برادری اور یونیورسٹی کی سطح پر پہلے بھی ہم دونوں ممالک کے درمیان کام کر رہے ہیں اور اس پلیٹ فارم سے اس  میں مزید اضافہ ہوگا، اس کے علاوہ سیاسی اور تعلیمی امور پر بھی کام کیا جائے۔

لاہور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر میاں زاہد جاوید احمد نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور کشمیر کے معاملے پر کھل کر آواز اٹھائی جس کیلئے ہم ایران کے شکر گزار ہیں۔ انجمن دوستی پاکستان اور ایران بہت ہی مفید ثابت ہوگی۔ سمیعہ راحیل قاضی نے کہا کہ فارسی ہماری اپنی زبان تھی جسے منصوبے کے تحت ہم سے دور کیا گیا، زبان اور کلچر کا اہم تعلق ہے۔ میرے والد قاضی حسین احمد فرماتے تھے کہ اگر اقبال کو سمجھنا ہے تو فارسی سیکھو۔ مولانا مودودی نے سب سے پہلے امام خمینی ؒ کو دعوت دی تھی کہ پہلے پاکستان آئیں لیکن انھیں فرانس جانا پڑا۔ انجمن دوستی پاکستان و ایران کیساتھ چلیں گے اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔ اس کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ، لعل مہدی خان، شہزاد رفیق، پروفیسر ڈاکٹر رشید بخاری نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے انجمن دوستی پاکستان اور ایران کے قیام کو سراہا اور بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔
خبر کا کوڈ : 820731
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب