0
Wednesday 9 Oct 2019 23:21

ناموس رسالت کو کوئی خطرہ نہیں، انتشار پھیلانے والی کسی جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے، طاہر اشرفی

ناموس رسالت کو کوئی خطرہ نہیں، انتشار پھیلانے والی کسی جماعت کا ساتھ نہیں دیں گے، طاہر اشرفی
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان اندرونی و بیرونی چیلنجز کا شکار ہے ایسے حالات میں ملک کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، قانون ناموس رسالت ؐ، ختم نبوتؐ، مدارس و مساجد کو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، ہم انتشار پھیلانے والی کسی جماعت یا تحریک کا ساتھ نہیں دیں گے، مسئلہ کشمیر جس نازک موڑ سے گزر رہا ہے ایسے حالات میں پوری قوم کو اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرنا چاہیے لیکن بعض عناصر کی جانب سے محاذ آرائی کی سیاست کے ذریعے اس مسئلے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان علماء کونسل کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور اس سے محبت و وفاداری کا تقاضا ہےکہ کوئی ایسا عمل نہ ہو جس سے اس موقع پر وطن عزیز کو نقصان پہنچے۔

انہوں نے کہاکہ دشمن کشمیر پر پنجے گاڑے بیٹھا ہے اور وادی میں گزشتہ دو ماہ سے کرفیو نافذ ہے، ایسی صورتحال میں اہل کشمیر کی نگاہیں پاکستان کی جانب لگی ہوئی ہیں، حکومت پاکستان، افواج پاکستان، سیاسی و مذہبی جماعتیں اور دیگر تمام طبقات مسئلہ کشمیر پر متحد نظر آ رہے ہیں لیکن کچھ لوگ ذاتی و سیاسی مفادات کی خاطر ملک میں محاذ آرائی کی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان یا خطے کے داخلی امور تک محدود نہیں رہا، یہ عالمی انسانیت کیلئے سوالیہ نشان اور چیلنج بن چکا ہے۔ آج جو سلوک بھارت کی آٹھ لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے ساتھ کر رہی ہے اگر یہی سلوک 80لاکھ ہندوئوں، مسیحیوں یا یہودیوں کیساتھ روا رکھا جائے تو کیا دنیا کا ردعمل یہی ہوگا جو آج کشمیر کی صورتحال پر ہے۔ جو مغربی ممالک اور مہذب دنیا جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتے نہیں تھکتے انہیں مقبوضہ کشمیر میں دم توڑتی انسانیت کیوں نظر نہیں آتی۔
خبر کا کوڈ : 821130
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب