0
Thursday 10 Oct 2019 08:54

کشمیر کو کسی نے بیچا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے، مسعود خان

کشمیر کو کسی نے بیچا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے، مسعود خان
اسلام ٹائمز۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ کشمیر کو کسی نے بیچا ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کی کسی میں ہمت ہے۔ پہلی بار کراچی سے لے کر خیبر تک اور گوادر سے خنجراب تک پاکستانی قوم متحد ہو کر کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے اور ریاست پاکستان پوری قوت اور مضبوطی سے کشمیری عوام کی آواز کو دنیا کے ہر فورم پر بھرپور اعتماد کے ساتھ پیش کر رہی ہے۔ پاکستان کشمیر کے حوالے سے مضبوط اقدامات اٹھا رہا ہے۔ بھرپور سفارتی مہم چلائی گئی لیکن صرف 4ممالک چین،ترکی، ملائشیاء اور ایران نے پاکستانی مؤقف کی حمایت کی۔ سکیورٹی کونسل کی جانب سے مناسب ردعمل نہ آنا تشویشناک ہے۔ ان خیالات کا اظہار سردار مسعود خان نے  نے تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے تعاون سے انسٹیٹیویٹ آف اسٹرٹیجک سٹڈیز اسلام آباد (ISSI) کے زیراہتمام کشمیر کے حوالے سے گول میز کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گول میز کانفرنس کی صدارت سابق سیکرٹری خارجہ و معروف سفارتکار و ڈائریکٹر جنرل ISSIٓؑ اعزاز چوہدری نے کی۔ کانفرنس میں سابق وزیر دفاع جنرل (ر) نعیم لودھی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) آغا عمر فاروق، کشمیری سکالر شیخ تجمل السلام، حریت کانفرنس کے عبدالحمید لون، الطاف حسین وانی،سید اعجاز رحمانی، سابق سپیکر بلوچستان راحیلہ درانی، سابق وزیر آزاد کشمیر فرزانہ یعقوب، ایگزیکٹو ڈائریکٹر کشمیر انسٹیٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز، اینکر پرسن و تحریک حق خودارادیت اسلام آباد چیپٹر کی چیئرپرسن عروج صیامی، معروف کالم نگار ارشاد محمود، ڈاکٹر محمد خان، ڈاکٹر شبانہ فیاض، ڈاکٹر سلمہٰ ملک   اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

صدر آزادکشمیر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام کی تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ قوم اپنے اندر اتحاد و اتفاق کی فضاء کو برقرار رکھے اور بھارت کی طرف سے کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازش کو ناکام بنا دے۔ ہمیں ہر قسم کے اختلافات کو بھلا کر بھارت کے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنانا ہو گا۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان نے اپنے قیام کے فوراً بعد نہ صرف بھارت کے خلاف 1947-48ء میں دو جنگیں جیت کر آزادکشمیر اور گلگت  بلتستان کی صورت میں چوراسی ہزار مربع میل کا علاقہ آزاد کرایا تھا بلکہ سفارتی محاذ پر کئی کامیابیاں حاصل کرتے ہوئے ایک درجن کے قریب قراردادیں بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظور کرائی تھیں۔ آج پاکستان ایک ایٹمی طاقت اور خطہ کا اہم ملک ہے وہ بھارت کے مقابلے میں کیوں کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ ہمیں بھارت کی سول سوسائٹی تک بھی پہنچنا ہو گا اور اسے مودی کی امن دشمن پالیسیوں کے خلاف بولنے پر مجبور کرنا ہو گا۔

سردار مسعود خان نے کہا کہ آج بھی ہم پورے عزم کے ساتھ جدوجہد کریں تو کامیابیاں ہمارے قدم چومیں گی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بھارت کا غلط پروپیگنڈہ ہے کہ شملہ معائدہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے عملدرآمد میں یا تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے کسی بین الاقوامی ثالثی کی راہ میں رکاوٹ ہے، حقیقت یہ ہے کہ شملہ معاہدہ ثالثی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر برتری رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتے ہیں اور پاکستان کے نام پر اپنی جانوں کی قربانی پیش کر رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ پاکستان نے بھی کشمیریوں کی آزادی کے لئے نہ صرف چھ جنگیں لڑیں بلکہ گزشتہ سات دہائیوں میں اپنی سلامتی کو داؤ پر لگا کر مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔

صدر آزادکشمیر نے کہا کہ بھارت کی طرف سے آزادکشمیر اور پاکستان پر حملے کو خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا لیکن بھارت اور بین الاقوامی دنیا کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کوئی بھی محدود جنگ آسانی سے جوہری جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس سے نہ صرف اربوں انسان اور حیوان متاثر ہوں گے بلکہ پوری دنیا کے ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لئے یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خطہ میں جنگ کی تباہ کاریوں سے بچنے کے لئے تنازعہ کشمیر کا پرامن سیاسی و سفارتی حل ڈھونڈنے میں پاکستان اور کشمیری عوام کی مدد کریں۔ بھارتی حکمرانوں کی انتہاء پسندی کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مودی اور ان کی حمایتی جماعتیں بھارت میں ہندوتوا کے نظریے پر گامزن ہیں جس کے تحت پاکستان کا قیام ایک گناہ تھا اور اس گناہ کی تلافی پاکستان کو ختم کر کے ہی کی جا سکتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 821145
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب