0
Thursday 10 Oct 2019 10:05

اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا گیا

اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں بے ضابطگیوں کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا گیا
اسلام ٹائمز۔ وفاقی دارالحکومت کو محفوظ بنانے کیلئے بنائے گئے اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ میں مبینہ طور پر بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لئے معاملہ قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھجوا دیا گیا۔ واضح رہے کہ میڈیا میں یہ معاملہ اٹھایا گیا تھا، جس پر پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کی ایک ذیلی کمیٹی نے ایکشن لیا ہے، کمیٹی کے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف کے رہنما نور عالم خان ہیں۔ پبلک اکاوئنٹس کمیٹی کی جانب سے بھی اس کا نوٹس لیا جا چکا ہے، پبلک اکاونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اتنے سنجیدہ معاملے کو کیسے نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے وزارت داخلہ اور پولیس کی جانب سے جوابات کو غیر تسلی بخش قرار دیا اور نیب کو کہا گیا ہے کہ وہ اس منصوبے کو دیکھے۔ اجلاس کے موقع پر وزارت داخلہ کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ شروع میں یہ پراجیکٹ آٹھ ارب روپے کا تھا، حال ہی میں اس پراجیکٹ کا کنٹرول نادرا سے لے کر اسلام آباد پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو تین ماہ میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسلام آباد سیف سٹی میگا پراجیکٹ پر قومی خزانے سے 15 ارب روپے خرچ ہوئے اور بنانے والوں نے دعوی کیا تھا کہ یہ منصوبہ اسلام آباد کو محفوظ شہر بنائے گا۔ یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ منصوبہ کیسےغیر فعال ہو گیا؟ کیوں زیادہ تر کیمرے ناکارہ ہو چکے ہیں؟ کوئی ادارہ ذمہ داری لینے کے لیے تیار کیوں نہیں؟ اور کیوں خامیوں کو چھپایا جا رہا ہے؟۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے  کے آدھے سیکورٹی کیمرے بند ہیں اور کیمرو ں کا ڈیٹا زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا نظام نہیں بنایا گیا۔ نیشنل انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے ایک تردید جاری کی گئی کہ ان کی جانب سے یہ رپورٹ شائع نہیں کی گئی، لیکن رپورٹ میں اٹھائے گئے حقائق کی اس تردید میں کوئی نفی نہیں کی گئی۔
 
خبر کا کوڈ : 821154
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب