1
Thursday 10 Oct 2019 14:24

مسلح افواج کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں فعال اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں، یکجہتی کشمیر ملٹی پارٹی کانفرنس کا متفقہ اعلامیہ

مسلح افواج کشمیر کی آزادی کی جدوجہد میں فعال اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں، یکجہتی کشمیر ملٹی پارٹی کانفرنس کا متفقہ اعلامیہ
اسلام ٹائمز۔ ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام اسلام آباد میں منعقد ہونے والی یکجہتی کشمیر ملٹی پارٹی کانفرنس میں شریک تمام جماعتیں، ادارے اور شخصیات اتفاق رائے سے مندرجہ ذیل اعلامیہ کی منظوری دیتے ہیں:

بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
وَ لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکٰفِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا
اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔ (النساء:141)
فقہ اسلامی کے مطابق، جس پر تمام مسلمہ اسلامی مکاتب فکر کا اتفاق ہے، کسی بھی اسلامی سرزمین پر کفار و مشرکین کا تسلط اور قبضہ حرام ہے۔ بلاد مسلمین کا دفاع اور ان کو کفار و مشرکین کے تسلط سے آزاد رکھنا اور آزاد کروانا اہل ایمان پر فرض ہے۔ اگر حملے کے نشانے پر سرزمین اسلامی کے لوگ مدد کے محتاج ہوں تو سب سے پہلے دور کے مقابلے میں قریب ترین لوگوں پر سرزمین اسلامی کا دفاع کرنے والے مجاہدین اور مسلمانوں کی مدد و نصرت کرنا فرض ہے۔ اس لحاظ سے حریت و آزادی کی مقدس جنگ لڑنے والے مسلمانان کشمیر کی مدد کرنا سب سے پہلے مسلمانان پاکستان اور حکومت پاکستان پر فرض بنتا ہے۔ ہم پاکستانی جن میں اس ملک کے نامور علماء، ملک گیر اور علاقائی تنظیمیں اور شخصیات شامل ہیں، مسلمانان کشمیر کی جدوجہد آزادی کو ہر ضروری اور ہر ممکن مدد و نصرت کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ ہم پاکستان کے تمام مسلمانوں اور بطور خاص حکومت پاکستان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ جدوجہد آزادی میں مسلمانان کشمیر کی مدد کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کرے۔

اسلامی فریضہ کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرکے، اس کو مملکت خداداد پاکستان میں شامل کرنے کی عظیم اور مقدس جدوجہد کی مدد و حمایت کرنا ایسا قومی فرض ہے جس سے بطور انسان،مسلمان اور پاکستانی ہم اغماض نہیں برت سکتے ہیں۔ ہم غیور پاکستانی عوام کے ساتھ ساتھ تمام قومی سرکاری اداروں اور خاص طور پر عساکر پاکستان سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں شامل ہونے کی آرزو میں قابض بھارتی افواج کے ہاتھوں بھیانک مظالم کا شکار، مصروف جدوجہد مسلمانان کشمیر کی آزادی اور تکمیل پاکستان کی اس عظیم اور مقدس جدوجہد میں فعال اور نتیجہ خیز کردار ادا کریں۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آزادی کشمیر کے لیے ریاست پاکستان اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، جموں اور کشمیر جو پاکستان کی شہ رگ ہے اسے آزاد کروانے کے لیے عسکری اقدام کرے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پوری ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور پاکستان میں اس کی شمولیت تک آزاد جموں و کشمیراور گلگت بلتستان اور وہاں بسنے والے عوام کو پاکستان کے دیگر علاقوں اور لوگوں کے مساوی انتظامی آزادی اور شہری حقوق دیے جائیں۔
  ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سفارتی سطح پر کردار ادا کرے۔ برادر اسلامی اور دوست ممالک کو کشمیر میں جاری جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے پر آمادہ کرے اور دنیا کو جموں و کشمیر کے بارے میں اپنے مبنی بر عدل و انصاف موقف سے آگاہ کرے، دوسری طرف سے یہ امر باعث تشویش ہے کہ بھارت اپنے ظلم و تعدی پر مبنی موقف ہونے کے باوجود دنیا کو اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب دکھائی دیتا ہے۔

ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان بیرونی ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کو فعال اور متحرک کرے، آزادکشمیر کو تحریک آزادی کشمیرکا حقیقی بیس کیمپ بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، آزاد حکومت کو پوری ریاست کی نمائندہ حکومت کی حیثیت دیتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کو خود اپنا مقدمہ پیش کرنے کا بھرپور موقع دیا جائے۔ آزاد جموں و کشمیر میں تمام تعلیمی اداروں میں این سی سی NCC کے تحت سول ڈیفنس کی تربیت دی جائے نیز آزاد جموں و کشمیر ریگولر فورسز کو بحال کیا جائے۔

ہم کشمیر کی آزادی اور مظلوم کشمیریوں کو برہمن سامراج کے ظلم و استبداد سے نجات دلوانے کی ہر کوشش میں ہم ہراول دستے کا کردار ادا کریں گے۔
  ہم بین الاقوامی اداروں اور دنیا کے بیشتر ممالک کی مسئلہ کشمیر پر خاموشی پر اظہار تشویش کرتے ہیں اور ان سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنی انسانی اور اخلاقی ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے مظلوم کشمیریوں کی حمایت میں آواز بلند کریں۔ کوئی بھی قوم کسی بھی وقت دنیا میں مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے اور اسے باقی انسانیت کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

جن عالمی اداروں، ممالک اور شخصیات نے کشمیری عوام کی حمایت کے لیے آواز بلند کی ہے ان کا ہم تہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔
10۔ کشمیر کی نازک صورتحال پر حکومت، ریاست اور اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر عالمی سطح پر کشمیر کے حقوق کی آواز بلند کرنا چاہیے۔ ہم پاکستان بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں، اداروں اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر پر بھرپور اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں اور اس راستے میں کسی اور موضوع پر اختلاف کو حائل نہ ہونے دیں۔

11۔ ہم فلسطین کے مظلوم مسلمانوں سے بھی اپنی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ناجائز و غاصب صہیونی حکومت کی طرف سے ان پر روا رکھے جانے والے مظالم کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں نیز مسلمانوں کے خلاف بھارتی اور صہیونی گٹھ جوڑ کی بھی مذمت کرتے ہیں۔
12۔ ہم اعلان کرتے ہیں کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ہم امت اسلامیہ کے اتحاد و وحدت پر ایمان رکھتے ہیں، ہم امت کے ہر فرد سے اپیل کرتے ہیں کہ اس انتہائی حساس تاریخی موقع پر کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں آواز بلند کرے اور امت کے جسد واحد کا حصہ ہونے کا ثبوت دے۔

 کانفرنس سے کونسل کے صدر ڈاکٹر صاحب زادہ ابو الخیر محمد زبیر، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلی خرم نواز گنڈا پور، اسلامی تحریک کے سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی، تنظیم اسلامی کے سربراہ حافظ عاکف سعید، جمعیت اتحاد علمائے پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک، اتحاد علمائے پاکستان کے نائب صدر مولانا عبد الجلیل نقشبندی، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری،جمعیت اہل حدیث کے سربراہ مولانا عبد الغفار روپڑی، جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی، ہدیۃ الہادی کے صدر رضیت باللہ، کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید فیض نقشبندی، تحریک جوانان پاکستان کے سربراہ عبد اللہ گل، جمعیت علمائے پاکستان کے سینئر نائب صدر صفدر گیلانی، علامہ زبیر احمد زہیر صدر جمہوری اتحاد، جماعت اسلامی کے نائب امیر پروفیسر محمد ابراھیم، حریت کانفرنس کے راہنما سید عبداللہ گیلانی، نور الباری اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اس ملٹی پارٹی کانفرنس میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی رکن جماعتوں کے قائدین، صوبائی و ضلعی قائدین کے علاوہ کشمیر کی آل پارٹیز حریت کانفرنس، حریت کانفرنس کے نمائندگان اور سول سوسائٹی کے اراکین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔کانفرنس کی نظامت کے فرائض کونسل کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے انجام دیئے۔
 
خبر کا کوڈ : 821260
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب