0
Friday 11 Oct 2019 21:54
قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا

میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں، بہت سمجھوتہ کر لیا یہ وقت اب جدوجہد کا ہے، نواز شریف

میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں، بہت سمجھوتہ کر لیا یہ وقت اب جدوجہد کا ہے، نواز شریف
اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے شہباز شریف کے نام خط میں کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف درست ہے حمایت کرنی چاہیئے، خاموش بیٹھنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے، میں قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے کوٹ لکھپت جیل سے شہباز شریف کے نام خط کے مندرجات سامنے آ گئے، خط میں نواز شریف نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مؤقف درست ہے حمایت کرنی چاہیئے، خاموش بیٹھنے سے حالات بہتر نہیں ہوں گے۔ خط میں کہا گیا ملکی حالات کا تقاضا ہے جو حکومت کے خلاف نکلے اس کا ساتھ دیا جائے، مولانا صاحب ہمارے اتحادی ہیں، پارٹی کی سینئر قیادت کو اعتماد میں لیں اور میرا پیغام پہنچائیں اور مولانا فضل الرحمٰن کی ہر طرح سے سپورٹ کی جائے۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کئے جائیں، میں قید نہ ہوتا تو مولانا کے ساتھ ٹرک پرکھڑا ہوتا، اب یہ ذمہ داری آپ نبھائیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں، بہت سمجھوتہ کر لیا یہ وقت اب جدوجہد کا ہے، پارٹی رائے لیں مارچ میں جانے کے فوائد اور نہ جانے کے نقصانات کیا ہیں۔ میں مولانا فضل الرحمٰن سے صفدر کے ذریعے رابطے میں ہوں، مولانا صاحب نے کہا ہے کہ مجھے نون لیگ کی مدد چاہیئے، مولانا صاحب نے مدد مانگی ہے تو انہیں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیئے۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ شہباز شریف نے نواز شریف کےخط کے بعد مشاورتی اجلاس کل بلا لیا ہے، اجلاس میں پارٹی رہنماؤں سے نوازشریف کی تجاویز پر رائے لی جائے گی۔

گذشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کا جیل سے لکھا گیا، خط جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کو موصول ہوا تھا، خط میں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کے مارچ کی مکمل حمایت کا اعلان کیا تھا۔ نواز شریف نے خط میں یقین دہانی کرائی تھی کہ ہر قسم کا تعاون کریں گے، نون لیگ کی پوری قیادت آپ کے مارچ کی حمایت کرتی ہے، سلیکٹڈ حکومت کےخاتمے کے لئے نون لیگ پوری طرح آپ کے ساتھ ہوگی۔ یاد رہے گذشتہ روز مسلم لیگ نون کی مرکزی قیادت کا اجلاس شہباز شریف کی رہائشگاہ پر ہوا تھا، جس میں شہباز شریف، راجہ ظفر الحق، احسن اقبال سمیت مرکزی قیادت مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں شرکت کی حامی نہیں تھی جبکہ جونیئر قیادت نے مارچ میں شرکت کی تجویز دی تھی۔

جاوید لطیف، امیر مقام اور سینیٹر پرویز رشید مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ میں شرکت کے حامی تھے۔ واضح رہے جے یو آئی (ف) نے 27 اکتوبر کو اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان کیا ہے، مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مظاہروں کے ساتھ اسلام آباد کی طرف آزادی مارچ شروع ہوگا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ اسلام آباد جانا ہمارا آخری اور حتمی فیصلہ ہے، اب یہ جنگ حکومت کے خاتمے پر ہی ختم ہوگی، ہماری جنگ کا میدان پورا ملک ہوگا، ملک بھر سے انسانوں کا سیلاب آرہا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 821508
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب