0
Sunday 13 Oct 2019 18:21

خیبر پختونخوا، غیر حاضری اور جعلی ڈگری پر 104 اساتذہ برطرف

خیبر پختونخوا، غیر حاضری اور جعلی ڈگری پر 104 اساتذہ برطرف
اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کی حکومت نے صوبے میں ضم ہونے والے قبائلی علاقوں کے 104 ایلیمنٹری اور سیکنڈری اساتذہ کو مسلسل غیر حاضری اور جعلی ڈگری پر ملازمت حاصل کرنے پر برطرف کر دیا۔ اس ضمن میں محکمہ تعلیم کے افسر نے بتایا کہ سابق وفاق کے زیر اتنظام قبائلی علاقے (فاٹا) میں اساتذہ کی تعیناتی سے متعلق امور میں بری طرح متاثر تھے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے کلاس چہارم کے ملازمین سے لے کر بی پی ایس 20 پرنسپل تک کے تمام امور کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے خدشے کا اظہار کیا کہ جعلی ڈگری کے حامل اساتذہ کی بڑی کھیپ کو برطرف کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ گریڈ 17 کے 46 سینئر اساتذہ ملازمین برطرف کئے گئے، جبکہ دیگر پرائمری اسکول ٹیچرز اور کم گریڈ کے ملازمین ہیں۔ محکمہ تعلیم کے افسر نے بتایا کہ مہمند، باجوڑ اور خیبر سے 13-2012ء کے درمیانی عرصے میں جعلی ڈگری کی بنیاد پر بڑی تعداد میں سینئر ٹیچر کو ملازمتیں دی گئیں۔ شمالی و جنوبی وزیرستان سے متعلق سوال پر انہوں نے بتایا کہ محکمہ تعلیم کو دونوں اضلاع تک رسائی حاصل نہیں لیکن ادھر بھی جعلی ڈگری پر تعیناتی ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز غیر حاضر اور جعلی ڈگری والے اساتذہ کے خلاف کرمنل مقدمات دائر کریں گے۔

رابطہ کرنے پر وزیراعلٰی کے مشیر برائے ایلیمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن ضیاءاللہ بنگش نے بتایا کہ انہوں نے متعلقہ حکام کو قبائلی اضلاع کے تمام ملازمین کی ڈگریاں اور تعلیمی اسناد کی تصدیق کرانے کی ہدایت کی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک طرف قبائلی اضلاع میں ملازمتوں کا فقدان ہے تو دوسری طرف سرکاری محکموں میں قانون کے خلاف بھرتیاں ہوئیں۔ واضح رہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے تعلیمی اصلاحات کو اپنی حکومت کا مرکزی ہدف قرار دیا تھا۔ ان کے ابتدائی 100 دن کے ایجنڈا میں سماجی خدمات میں انقلابی تبدیلیوں' کی بات کی گئی تھی جس میں صحت اور تعلیم بھی شامل ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی ایمرجنسی کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے، جہاں بچوں کو رسمی نظامِ تعلیم میں لانا ترجیح ہونی چاہیئے، وہیں اس سے بھی زیادہ بڑی ترجیح یہ ہونی چاہیئے کہ اسکول جانے والے بچوں کو معیاری تعلیم ملے۔ 2007ء میں ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک تحقیق میں اس حوالے سے ٹھوس ثبوت سامنے آئے تھے کہ معاشی ترقی اور معاشرتی مساوات کی بنیاد اسکول میں گزارے گئے سال نہیں بلکہ معیارِ تعلیم ہے۔
خبر کا کوڈ : 821837
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب