0
Monday 14 Oct 2019 21:50

28 دیوبندی جماعتوں کی حمایت کا دعوی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، قاری عثمان

28 دیوبندی جماعتوں کی حمایت کا دعوی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، قاری عثمان
اسلام ٹائمز۔  جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان نے کہا کہ جبوں اور دستار کے تبادلہ کرنے سے سلیکٹڈ حکومت کو بچایا نہیں جاسکتا، کیس بنانے اور گرفتاری کی دھمکیاں دینے والے اپنی فکر کریں، جعلی وزراء کی دھمکیاں جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں، شوکت یوسفزئی سمیت لوٹا پارٹی کے وزراء اپنے دائرہ کار کے اندر رہ کر بات کریں، آزادی مارچ ہوکر رہے گا، حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے، 28دیوبندی جماعتوں کی حمایت کا دعوی کرنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، دینی مدارس کو تختہ مشق بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پہلے ہدایات کے نام پر جعلی خط اور اب جماعت احمدیہ کی جانب سے آزادی مارچ کے حق میں لیٹر جاری کرنا قادیانی نواز حکومت کی بھونڈی حرکتیں ہیں، کراچی کے دینی مدارس میں ملک کی بقاء و سلامتی، بھارت کی تباہی، آزادی مارچ کی کامیابی، مولانا فضل الرحمن اور اکابرین کی حفاظت کیلئے اوراد و وظائف، ختم خواجگان، ختم قرآن و سورۃ یسین روزانہ کی بنیاد پر روزے رکھنے، اعتکاف سمیت مسنون اعمال شروع کئے جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلدیہ ٹاؤن کے دینی مدارس کے دورے کے دوران جامعہ عمر میں مولانا علی سید، جامعہ قاسم العلوم میں مولانا محمد یوسف، مدرسہ معارف اسلامیہ میں مولانا عبدالقیوم قاسمی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

قاری محمد عثمان نے کہا کہ تحریک انصاف اور لوٹا پارٹی کے وزراء جو چاہیں کرلیں جو حربہ استعمال کرنا چاہتے ہیں کریں، قادیانی لابی کو ملک پر مسلط کرنے والے یہ نہ بھولیں کہ قادیانی کل بھی کافر تھے آج بھی کافر ہیں اور قیامت تک کافر رہیں گے، جماعت احمدیہ کی جانب سے لیٹر جاری کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ عمرانی حکومت آخری ہچکولے کھاتی لڑکھڑا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 27 اکتوبر کو کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی سے آزادی مارچ کا آغاز ہوگا جو 31 مارچ کو اسلام آبادمیں داخل ہوکر عمرانی حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ قاری محمد عثمان نے کہا کہ دینی مدارس کے طلباء اور علماء کرام صرف دعائیں کریں گے، ہم خواتین اور بچوں سے آزادی مارچ کامیاب نہیں کرائیں گے، جمعیت علماء اسلام کے مقامی یونٹ سے قافلوں کی صورت میں لاکھوں حلف یافتہ کارکن نکلیں گے، جبکہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی شامل ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 822024
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب