0
Tuesday 15 Oct 2019 14:33

اسلام آباد میں ایسے لوگوں کو بھی پلاٹ دیئے گئے جنہوں نے آئین توڑا، ہائی کورٹ

اسلام آباد میں ایسے لوگوں کو بھی پلاٹ دیئے گئے جنہوں نے آئین توڑا، ہائی کورٹ
اسلام ٹائمز۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ وزارت ہاؤسنگ نے ایسے لوگوں کو بھی پلاٹ دیئے جنہوں نے آئین توڑا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وفاقی دارالحکومت میں لوگوں کی زمینیں ایکوائر کرکے انہیں معاوضہ نہ دینے کے خلاف مقدمات کی سماعت کی۔ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی دارالحکومت میں پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر پابندی برقرار رہے گی، جب تک آخری متاثرہ شخص کو پلاٹ نہیں ملتا پلاٹوں کی الاٹمنٹ سے پابندی نہیں ہٹائیں گے، 90 روز میں سیکرٹری داخلہ متاثرین کے حوالے سے عملدرآمد رپورٹ جمع کرائیں۔ وزارت ہاؤسنگ کے وکیل نے پلاٹوں کی الاٹمنٹ پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کی تو چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ آج تک وزارت ہاؤسنگ نے غریبوں کے لئے کیا کیا، اس نے ایسے لوگوں کو بھی پلاٹ دیئے جنہوں نے ملک کا آئین توڑا اور جو نیب ریفرنسز میں سزا یافتہ ہیں، 50 سال سے اسلام آباد کے متاثرین دربدر پھرتے ہیں، کیا وزارت ہاؤسنگ نے غریبوں کے لئے کوئی اسکیم شروع کی، سی ڈی اے صرف مخصوص لوگوں کو زمینیں دیتا ہے۔

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی اسد عمر بھی عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ سیاست دان، بیوروکریسی، ججز اور جرنیل سب اس کے بینفشری ہیں، تیس سال پرانا معاملہ اگر آپ حل کریں گے تو آپ کا نام یاد رکھا جائے گا۔ چیئرمین سی ڈی اے نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ متاثرین کے معاوضہ کا معاملہ جلد حل کرلیں، اکاؤنٹ الگ کردیا ہے ڈیڑھ ارب جمع کرادیا، آٹھ ارب چاہئیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم امتناع میں توسیع کرتے ہوئے سماعت تین ماہ کے لئے ملتوی کردی۔
خبر کا کوڈ : 822165
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے