0
Tuesday 15 Oct 2019 14:52

صدر پاکستان بیوروکریسی کے سست رویئے پر سخت نالاں

صدر پاکستان بیوروکریسی کے سست رویئے پر سخت نالاں
اسلام ٹائمز۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے دفتر کی فائلوں کو آگے بڑھانے میں بیوروکریسی کے سست رویے پر شکوہ کردیا۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے تحت منعقد انجینئرنگ ایجوکیشن اینڈ پریکٹس کانفرنس میں صدر مملکت نے کہا کہ میں بیوروکریسی کے رویہ سے بہت پریشان ہوں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے بتایا کہ ایک شخص نے پریزیڈنٹ ہاؤس میں فائل بھیجی لیکن 6 ماہ تک اسٹاف کو وہ فائل نہیں ملی اور جب ملی تو کہا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن بھیجی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فائلوں کو بے مقصد ایک سے دوسرے دفتر گھمانا ہماری قابلیت بن چکی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے زور دیا کہ دفتری امور بروقت ختم کرنے کی ضرورت ہے، فیصلے جلد لینے چاہیئے۔ واضح رہے کہ چند بیوروکریٹس نے وزیراعظم عمران خان سے شکایت کی تھی کہ انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ہراساں اور دھکمی آمیز رویے کا سامنا ہے جس کے باعث بیوروکریٹس دفتری فائلوں پر دستخط کرنے میں کتراتے ہیں۔ بعدازاں بعض سینئر بیوروکریٹس کی شکایت پر حکومت نے نیب کو لگام دینے اور تاجر برادری اور بیوروکریسی کو سازگار ماحول فراہم کرنے کے لئے کوششیں کیں، تاہم حکومت نے گزشتہ ہفتے سینیٹ میں بل متعارف کرایا جو نیب کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق تھا۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پی ای سی کو ہدایت کی کہ وہ عالمی رحجان اور معاشرے کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انجینئرنگ تعلیم کے فروغ کے لئے منصوبہ تیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ تعلیم کی فراہمی کے ساتھ لوگوں کے مسائل کا بھی حل دریافت کریں اور ملکی انجینئرز کو عوامی بھلائی کے لئے اپنی خدمات پیش کرنی چاہیئے۔تقریب میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا کہ میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے درخواست کروں گا کہ وہ بزنس ٹائیکون کے بجائے ملک کے نوجوان سے ملیں۔ چوہدری فواد کا کہنا تھا کہ 30 سیٹھوں کے بجائے پوری قوم کا مفاد مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبا و طالبات کو ملازمت فراہم نہیں کی جاسکتی، اس لئے انجینئرنگ میں ملازمت سے متعلق رویہ میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پی ای سی کے چیئرمین انجینئر جاوید سلیم قریشی نے صدر مملکت کو مخاطب کرکے کہا کہ انجینئرز کو وزارت اور فیصلہ ساز اداروں میں ملازمت کو نہیں ملتی، گریجویٹ سی ایس ایس امتحان سیکنڈ ڈویڑن سے پاس کرکے گریڈ 21 کا سیکریٹری بن جاتا ہے جبکہ انجینئرز گریڈ 17 سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرز کو فیصلہ ساز اداروں میں فرائض انجام دینے کا موقع ملا تو وہ مادرملت کی قسمت بدل سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے 28 مارچ کو بیوروکریسی کا نیب سے گلہ مسترد کردیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نیب حکومت کا ادارہ ہے، آپ جمہوریت کی خدمت کررہے ہیں ہم معاونت کررہے ہیں۔
خبر کا کوڈ : 822171
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب