0
Wednesday 16 Oct 2019 09:53

حکومت کی معاشی پالیسی غریب کو نچوڑو اور آئی ایم ایف کو دو کے مرکزی نقطہ کے گرد گھوم رہی ہے، سراج الحق

حکومت کی معاشی پالیسی غریب کو نچوڑو اور آئی ایم ایف کو دو کے مرکزی نقطہ کے گرد گھوم رہی ہے، سراج الحق
اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ 22 کروڑ عوام حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے بے چینی اور اندیشوں کا شکار ہیں، لیکن حکمران ٹینشن کو کم کرنے کے لیے بیرونی دورے کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غربت، مہنگائی اور بے روزگاری میں ہوشرباء اضافہ ہو رہا ہے، لوگوں کو لینے کے دینے پڑ گئے ہیں، حکومت کی معاشی پالیسی غریب کو نچوڑو اور آئی ایم ایف کو دو کے مرکزی نقطہ کے گرد گھوم رہی ہے، جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سیاست نے عوام کا کچومر نکال دیا ہے۔ لاہور میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے خطرات کم ہونے سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا، معاشی اعشاریے مسلسل ناکامی اور زبوں حالی کی بھیانک تصویر پیش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا سب سے بڑا دعویٰ احتساب کرنے اور کرپشن پر قابو پانے کا تھا، مگر کرپشن مزید دو فیصد بڑھ گئی ہے، گذشتہ حکومتوں میں ناجائز کام کے لیے رشوت دینا پڑتی تھی اور اب جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا، مہنگائی آنے والے دو سالوں میں مزید 13 فیصد بڑھنے کی خبریں آ رہی ہیں، جس سے عوام کے اوسان خطا ہو گئے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت احتساب میں مکمل طور پر ناکام اور بے بس نظر آتی ہے، نیب کو مطلوب کئی لوگ حکومت کی صفوں میں بیٹھے ہیں، جس سے یک طرفہ احتساب کے تاثر کو تقویت مل رہی ہے، پانامہ کے 150 ملزمان میں سے 90 کو حکومت کی طرف سے ایمنسٹی دیے جانے کے انکشاف نے احتساب کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب تک بے لاگ احتساب نہیں ہوتا اور لوٹی گئی دولت واپس قومی خزانے میں نہیں آتی، ملک و قوم کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔
خبر کا کوڈ : 822280
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب