0
Wednesday 16 Oct 2019 15:27

کراچی کا نام مہران سندھ رکھنے کی بات کہاں سے نکلی، یہ سب کا اور میرا شہر ہے، وزیراعلیٰ سندھ

کراچی کا نام مہران سندھ رکھنے کی بات کہاں سے نکلی، یہ سب کا اور میرا شہر ہے، وزیراعلیٰ سندھ
اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ ہم آئین کے برعکس کوئی بات قبول نہیں کریں گے، یہ آئین توڑنے کی بات کی جا رہی ہے، 80 فیصد کچرا ان اضلاع سے اٹھا ہے جہاں سالڈ ویسٹ نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے لیاقت علی خان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آج شہید ملت لیاقت علی خان کو خراج پیش کیا، وہ قائداعظم کے ساتھی اور جدوجہد کا حصہ تھے، پہلے قائد اور پھر شہید ملت ہم سے جدا ہوگئے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ ان رہنماؤں کے بعد جو مسائل پیدا ہوئے، انہیں بھٹو شہید آگے لے کر چلے، پھر ملک میں مارشل لاء اور اس کے بعد بینظیر بھٹو نے ملک کے مشن کو لے کر چلیں، اب ہم اس مشن کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کا انتظامی سطح پر کوئی اختیار نہیں ہے، ڈھکی چھپی بات نہیں کہ گورنر کی جانب سے آرٹیکل 149 کی بات کی گئی، ہم آئین کے برعکس کوئی بات قبول نہیں کریں گے یہ آئین توڑنے کی بات کی جا رہی ہے، گورنر وفاق کے نمائندے ہیں مگر یہاں وہ سندھ کے ہوجاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 21 ستمبر سے کراچی میں صفائی مہم چلائی تھی ایک ماہ مانگا گیا، ہم نے کاؤنٹر چیک رکھا ہوا ہے کچھ اضلاع میں کچرا نکل ہی نہیں رہا، 2 لاکھ 90 ہزار سے زائد کچرا لینڈ اسٹیشن پہنچ گیا ہے، 80 فیصد کچرا ان اضلاع سے اٹھا ہے جہاں سالڈ ویسٹ نہیں تھا۔ انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ڈی ایم سیز سے اجلاس کئے اور مسائل حل کرنے کا یقین دیا ہے، فرق نظر آرہا ہے، کراچی کا نام مہران سندھ رکھنے کی بات کہاں سے نکلی، یہ سب کا اور میرا شہر ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ صوبائی وزراء امتیاز شیخ، مرتضیٰ بلوچ، مشیر مرتضیٰ وہاب و دیگر موجود تھے۔
خبر کا کوڈ : 822423
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے