0
Friday 18 Oct 2019 06:55

امریکی نائب صدر اور سیکریٹری خارجہ کا دورہ ترکی، ترک فوج کا پانچ دن کیلئے سیز فائر

امریکی نائب صدر اور سیکریٹری خارجہ کا دورہ ترکی، ترک فوج کا پانچ دن کیلئے سیز فائر
اسلام ٹائمز۔ امریکا کے نائب صدر مائیک پینس کا کہنا ہے کہ کرد فورسز کے شمال مشرقی شام سے نکلنے کے لیے ترکی وہاں پانچ روز کے سیز فائر پر راضی ہوگیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان سے کئی گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے مائیک پینس نے کہا کہ پانچ روز کے سیز فائر کے دوران امریکا، ترکی پر عائد کی گئی اضافی پابندیوں پر عملدرآمد نہیں کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی کی جانب سے شام میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد امریکا اس پر عائد کی گئی حالیہ پابندیاں اٹھا لے گا۔ امریکی نائب صدر نے شام میں کرد فورسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وائی پی جی فورسز کے انخلا کے بعد شام میں جب مستقل سیز فائر ہوگا اس صورت میں امریکا، ترکی کے کئی کابینہ اراکین اور متعدد ایجنسیوں پر عائد پابندیاں ہٹانے کے لیے بھی تیار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی فورسز نے پہلے ہی وائی پی جی یونٹس سے محفوظ خلاصی کے لیے سہولت فراہم کرنے کا آغاز کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ترکی اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ وہ ترکی کی سرحد کے قریب شمالی شام میں انقرہ کے محفوظ زون کے مطالبے کا پرامن حل نکال لیں گے۔ مائیک پینس نے کہا کہ وہ ترک صدر سے مذاکرات کے بعد امریکی صدر سے بات کر چکے ہیں اور انہوں نے سیز فائر معاہدے کے لیے شکریہ ادا کیا ہے۔ ترکی کے سیز فائر پر راضی ہونے کے فوری بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ترکی سے اچھی خبر آرہی ہے۔ انہوں نے ترک ہم منصب رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فیصلے سے لاکھوں لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔

امریکی نائب صدر مائیک پینس اور سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو کے دورہ ترکی کا مقصد رجب طیب اردوان کو شام میں آپریشن روکنے کے لیے قائل کرنا تھا۔ قبل ازیں یہ بات سامنے آئی تھی کہ امریکی صدر کی جانب سے ترک ہم منصب کو شام میں حملوں کے آغاز پر لکھے گئے غیر معمولی خط میں ڈونلڈ ٹرمپ نے انقرہ کو تاریخی خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے رجب طیب اردوان کو شیطان قرار دیا تھا اور خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بے وقوف نہ بنیں۔ 9 اکتوبر کو لکھے گئے خط میں امریکی صدر نے کہا کہ ایک اچھے معاہدے پر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ آپ ہزاروں افراد کے قتل کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتے اور میں ترک معیشت کی تباہی کا ذمہ دار نہیں بننا چاہتا اور میں ایسا کروں گا۔ انہوں نے رجب طیب اردوان کو بتایا تھا کہ ایک عظیم معاہدہ ممکن ہے کہ اگر وہ کردوں کی سرپرستی میں شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے سربراہ مظلوم عابدی سے مذاکرات کرلیں۔
خبر کا کوڈ : 822732
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب