0
Friday 18 Oct 2019 11:32

چینی صدر نے دورہ دہلی کے موقع پر کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا، لیاقت بلوچ

چینی صدر نے دورہ دہلی کے موقع پر کشمیر کا ذکر تک نہیں کیا، لیاقت بلوچ
اسلام ٹائمز۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے لاہور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کی ترجیح کشمیر نہیں تو حکومت نے بھی مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ قومی اتفاق رائے پیدا کیا اور نہ ہی قومی قیادت کو اکٹھا کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بلیک آؤٹ کرنا جمہوریت اور آزادی اظہار رائے پر لاک ڈاؤن ہے، فوجی آمریتوں کو بھی میڈیا پر قدغن لے ڈوبی اور اب جمہوریت اور آزاد میڈیا کی دعویدار حکومت کو آمرانہ روش لے ڈوبے گی۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ عمران سرکار ایف اے ٹی ایف کی مشکلات سے باہر نہیں نکل سکی، حکومت نے خود غلط راستہ اختیار کیا، اسی لیے عالمی بلیک میلنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عملدرآمد اب حکومت کی مجبوری بنا دی گئی ہے، اس کا نتیجہ معیشت اور زیادہ زوال ہے، وزیراعظم عمران خان کے دورے کے بعد چین کے صدر انڈیا گئے لیکن مقبوضہ کشمیر کا ذکر تک نہ ہوا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے سی پیک کو کھلواڑ بنا دیا ہے، سی پیک منصوبہ پر عملدرآمد کو سست روی اور مشکلات کا شکار کر کے حکومت خود ناکام اور بدنام ہوئی ہے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ نیب نے کرپشن فری پاکستان اور احتساب سب کا نعرے کو خود داغدار اور جانبدار بنا دیا ہے۔
خبر کا کوڈ : 822748
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے