1
Saturday 19 Oct 2019 21:14

مشرق وسطی میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں ہونے کا عالمی اعتراف

مشرق وسطی میں طاقت کا توازن ایران کے حق میں ہونے کا عالمی اعتراف
اسلام ٹائمز۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کی جنگ کا فاتح ایران ہے،اور وہ یہ جنگ جیت چکا ہے، شامی خانہ جنگی، یمن کی جنگ اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر مشرق وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلتا جا رہا ہے۔ ایران نے ان تبدیلیوں کو بڑی دانش مندی سے اپنے حق میں استعمال کیا ہے اور تہران خطے میں قائدانہ کردار کے حامل نئی طاقت بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران شام میں امریکا کی کمزوریوں پر بھی قریب سے نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ تہران کی رائے میں امریکا کے پاس جنگ سے تباہ شدہ شام کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل موجود ہی نہیں۔ اس کے برعکس آج شام کی خانہ جنگی کے حوالے سے اگر روس اور ایران سیاسی فاتح نظر آتے ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے شروع سے ہی مشرق وسطیٰ کی اس ریاست سے متعلق ایک نپی تلی اور مستقل پالیسی اپنا رکھی ہے۔ امریکی دارالحکومت واشنگٹن سے شائع ہونے والے جریدے 'فارن پالیسی‘ کے مطابق، ''روس اور ایران نے شامی خانہ جنگی کے حوالے سے شروع سے ہی ایک واضح، محدود اور قابل عمل سوچ اپنا رکھی ہے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ صدر بشارالاسد کو ہر حال میں اقتدار میں رہنا چاہیے۔‘‘

اس سوچ کا نتیجہ یہ کہ اسد آج بھی اقتدار میں ہیں اور روس اور ایران بھی شام میں موجود ہیں اور آئندہ بھی اس بات کا نظر انداز کیا جانا ممکن دکھائی نہیں دیتا کہ روس اور ایران شام میں ہی رہیں گے۔ روس اور ایران کا دمشق حکومت پر اثر اتنا زیادہ ہے کہ وہ ایسے فیصلوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں، جن کے اثرات یورپ تک میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسد حکومت کا کوئی آئندہ فیصلہ کیا ہو گا، کب انتظار کیا جائے گا، کب کوئی بڑا فیصلہ سامنے آئے گا اور کردوں کے معاملے میں ترکی کی فوجی مداخلت کے بعد شمالی شام کے بارے میں دمشق حکومت کا اگلا اقدام کیا ہو گا، یہ سب فیصلے دمشق میں خود صدر اسد اکیلے نہیں کرتے۔ ایران خطے میں اپنی عسکری طاقت کے اسی احساس کے ساتھ اب اس بات کا متحمل بھی ہو سکتا ہے کہ اپنی ہمسایہ ریاستوں اور علاقے کے دیگر ممالک کے ساتھ دوستانہ طرز عمل اپنائے رکھے۔ انہی عوامل اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھیں تو یہ سوال غیر منطقی محسوس نہیں ہوتا کہ آیا مشرق وسطیٰ میں طاقت اور اثر و رسوخ کی جنگ ایران جیت چکا ہے؟

امریکا عسکری حوالے سے شمالی شام سے نکل چکا ہے لیکن سفارتی میدان وہ اب بھی موجود ہے۔ امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ بات چیت کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اعلان کیا کہ ترکی شمالی شام میں اپنی فوجی کارروائیوں میں پانچ روزہ فائر بندی پر تیار ہے۔ شامی کردوں کے مطابق یہ فائر بندی اگرچہ عملاً وہ نہیں ہو گی، جس کی کہ انقرہ میں ترک کابینہ نے حمایت کی ہے تاہم یہ بات بھی سچ ہے کہ ترک صدر ایردوآن کا یہ اعلان صرف امریکا کی کافی بھرپور سفارتی کوششوں کے بعد ہی ممکن ہو سکا۔ جو بات واضح نہیں، وہ یہ ہے کہ آیا اس فائر بندی اعلان کا واقعی احترام بھی کیا جائے گا؟ غیر واضح تو یہ بات بھی ہے کہ آیا وائٹ ہاؤس کی سوچ یہ ہے کہ نائب صدر مائیک پینس کا دورہ ترکی اس خطے میں امریکا کی سیاسی اور سفارتی کوششوں کا ایک نیا مرحلہ تھا یا شاید وہ آخری کوشش جس کا مقصد یہ تھا کہ شمالی شام سے امریکی فوجی انخلاء کم از کم بہت جلدی میں کیا جانے والا کوئی اسٹریٹیجک فیصلہ ثابت نہ ہو۔

لیکن یہ بات بہرحال یقینی ہے کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنی کوششیں واضح طور پر اور اس طرح کم کر دی ہیں کہ ان کے بعد شروع ہونے والے ضمنی اثرات کا سلسلہ بھی اب کافی طویل ہو چکا ہے۔ ان ضمنی اثرات کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اب خطے میں نئے اتحاد اور طاقت کے نئے مرکز قائم ہونے لگے ہیں۔ بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ خطے کی کوئی بھی دوسری ریاست اس امر کی ایران سے زیادہ قائل نظر نہیں آتی کہ وہ ان بدلتے ہوئے حالات کو اپنے حق میں استعال کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہے۔
خبر کا کوڈ : 822970
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب