0
Monday 21 Oct 2019 11:59

حکومت مذاکرات کا ڈرامہ بنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے، مولانا عبدالواسع

حکومت مذاکرات کا ڈرامہ بنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے، مولانا عبدالواسع
اسلام ٹائمز۔ جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، حکومتی وزراء ہمیں دھمکیاں نہ دیں، اگر کوئی بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو جمعیت علماء اسلام ملک بھر میں احتجاج کریگی، مذاکرات اب جمعیت علماء اسلام نہیں بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی کرے گی، بلوچستان حکومت بلوچستان یونیورسٹی کے معاملے پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرے، یونیورسٹی میں اس طرح کے ماحول کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر حکومت نے حقیقی معنوں میں تحقیقات نہیں کی تو پھر تمام اپوزیشن جماعتیں آئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کریں گی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام کا آزادی مارچ حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گا۔ بلوچستان حکومت آزادی مارچ میں رکاوٹ پیدا نہیں کرے گی، تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے ہوگئے اور صوبے کی تمام اپوزیشن جماعتیں ہمارے ساتھ آزادی مارچ میں شریک ہوگی، اور بلوچستان سے ایک بہت بڑا قافلہ 27 اکتوبر سے قبل روانہ کر دیا جائے گا اور 27 اکتوبر کو کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں مظاہرے کئے جائینگے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکراتی کمیٹی کے نام پر سیاست نہ کرے، کیونکہ جمعیت علماء اسلام اور اپوزیشن جماعتیں اب حکومت کے ساتھ مذاکرات نہیں کرینگے کیونکہ حکومت مذاکرات کا ڈرامہ بنا کر عوام کو بے وقوف بنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام اکیلے میں حکومت سے کوئی مذاکرات نہیں کریگی، بلکہ مولانا فضل الرحمٰن نے اپوزیشن قائدین سے رابطہ کر کے انہیں اعتماد میں لیا اور انہیں بتایا کہ مذاکرات کا فیصلہ رہبر کمیٹی کرے گی۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی وزراء ہمیں دھمکیاں نہ دیں، ورنہ اسلام آباد میں دھرنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر میں دھرنے دیئے جائینگے۔ جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے پارٹی کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری سے ملاقات کرنی تھی، جسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مذاکرات کا اختیار اب رہبر کمیٹی کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنڈی اور اسلام آباد کی انتظامیہ حکومت کی آلہ کار نہ بنے اور تاجروں کو خطوط ارسال نہ کرے ورنہ انتظامیہ کیلئے نیک شگون نہیں ہوگا۔
خبر کا کوڈ : 823182
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب