0
Tuesday 22 Oct 2019 16:52
پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے

اہلسنت کی 25 جماعتوں کا فصل الرحمان کے مارچ سے لاتعلقی کا اعلان

اہلسنت کی 25 جماعتوں کا فصل الرحمان کے مارچ سے لاتعلقی کا اعلان
اسلام ٹائمز۔ اہلسنّت کی 25 جماعتوں اور ہزاروں مدارس و مساجد نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ 25 اکتوبر کو ملک گیر ”یوم یکجہتی کشمیر“ منایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے تنظیمات اہلسنّت کے قائدین کے ہمراہ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی مارچ کیخلاف اور کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے 26 اکتوبر کو جناح کنونشن سنٹر میں ”استحکام پاکستان کنونشن“ منعقد کیا جائے گا۔ 27 اکتوبر کو کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں ریلیاں نکالی جائیں گی۔ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ ملکی سلامتی کیخلاف اور غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بنانے والے علماء و مشائخ قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔ برصغیر میں دو قومی نظریے کے بانی مجدد الف ثانی ہیں۔ خانقاہی نظام ہزاروں مشائخ کے ساتھ آزادی مارچ کی مخالفت کرتے ہیں۔ مشائخ اہلسنّت عدم تشدد کی سیاست کے قائل ہیں۔

اہلسنت رہنماوں کا کہنا تھا کہ اہلسنّت نے ہمیشہ ریاست کے معاون و محافظ کا کردار ادا کیا ہے، کشمیر کے حساس مسئلے پر حکومت کو اندرونی چیلنجز کا شکار کرنا حب الوطنی نہیں ہے، ربیع الاوّل کی آمد سے چند دن پہلے ملک میں افراتفری پیدا کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، قوم ایسی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان ملکی سلامتی کی قیمت پر آزادی مارچ نہ کریں۔ مدارس اہلسنّت ہمیشہ سے سیاست سے دور رہے ہیں۔ ربیع الاول کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مدارس کے طلباء کسی احتجاج یا دھرنے میں ہرگز شرکت نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم کا مدارس ریفارمز پر تحفظات دور کرنے کا اعلان خوش آئند ہے۔ مدارس ریفارمز پر اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کریں گے۔ اہل سنت کا کوئی مدرسہ، مسجد، خانقاہ آزادی مارچ کا کسی طور پر حصہ نہیں ہے اور قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ فتنہ پرور عناصر کو مسترد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ قوم کا وقت برباد کرنے کی بجائے ملکی ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔ ملک کو بیرونی خطرات کا مقابلہ کے لیے متحد قوم کی ضرورت ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے اعلان لاتعلقی کرنے والی جماعتوں میں سنی اتحاد کونسل،جمعیت علماء پاکستان(نورانی)،جماعت اہلسنّت پاکستان،پاکستان سنی تحریک، جمعیت علماء پاکستان(نیازی)،مرکزی جمعیت علماء پاکستان، تنظیم المدارس ایکشن کمیٹی، مدارس اہل سنت ایکشن کمیٹی، تنظیم المساجد اہل سنت پاکستان، تنظیم علماء اہلسنّت پاکستان، جماعت اہل حرم، مرکزی مجلس چشتیہ، سنی یوتھ ونگ پاکستان، مصطفائی تحریک، تحفظ ناموس رسالت محاذ، عالمی تنظیم القر آء، بزم محدث اعظم پاکستان، جمعیت رضویہ قادریہ پاکستان، سنی ایکشن کمیٹی، جماعت نوجوانان اسلام پاکستان اور دیگر شامل ہیں۔

اس موقع پر جے یو پی کے صدر پیر سید معصوم حسین نقوی، جماعت اہلسنّت پاکستان کے پیر خالد سلطان،پیر میاں جلیل احمد شرقپوری(ایم پی اے)، مولانا رضائے مصطفی نقشبندی، مفتی محمد حیات قادری، پیر ضیاء المصطفیٰ حقانی، شیخ الحدیث علامہ محمد سعید قمر سیالوی، مولانا مجاہد عبد الرسول،ڈاکٹر مفتی محمد حسیب قادری، مولانا محمد علی نقشبندی، مفتی مشتاق احمد نوری، پیر سید واجد گیلانی، ڈاکٹر مفتی محمد کریم خان، مفتی محمد کریم خان، مولانا شریف الدین قذافی،مولانا محمد علی نقشبندی، مفتی امان اللہ شاکر، قاری محمد سلیم، علامہ محمد اخلاق جلالی، پروفیسر میں شریف القادری، علامہ برکات احمد صدیقی، ڈاکٹر عمران انور نظامی، علامہ مختار احمد نعیمی،علامہ راحت عطاری، ڈاکٹر احمد رضا رضوی، حاجی عبد الخالق، صاحبزادہ معاذ المصطفیٰ، علامہ محمد الطاف، علامہ محمد عبد الغفار، مفتی محمد تنویر اسلم، رانا محمد عظیم ایڈووکیٹ، راؤ حسیب احمد، صاحبزادہ محمد نواز اور دیگر موجود تھے۔
خبر کا کوڈ : 823460
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب