0
Wednesday 23 Oct 2019 22:16

سندھ میں گٹکے اور ماوے سے ماہانہ 3000 افراد منہ کے کینسر کا شکار

سندھ میں گٹکے اور ماوے سے ماہانہ 3000 افراد منہ کے کینسر کا شکار
اسلام ٹائمز۔ محکمہ صحت سندھ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 برسوں کے دوران صوبے بھر میں گٹکے، ماوے اور مین پوری کی وجہ سے پونے 2 لاکھ افراد منہ کے کینسر کا شکار ہوئے ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پہنور پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ نے گٹکا، ماوا اور مین پوری جیسی اشیا پر پابندی سے متعلق درخواست کی سماعت کی۔ ڈائریکٹر جنرل صحت نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی۔ جس کے مطابق پورے صوبے میں گزشتہ 5 برس کے دوران ایک لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد کینسر کا شکار ہوئے۔ اس طرح یومیہ یہ تعداد کم و بیش 3 ہزار بنتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ سول اسپتال کراچی میں 83 ہزار مریض علاج کیلئے آئے۔ لاڑکانہ میں 14 ہزار 534، نورین اسپتال بے نظیر آباد میں 13 ہزار مریضوں کو لایا گیا۔ کرن اسپتال کراچی میں 6500، نمرا جامشورو میں 13753 مریض آئے۔ بیت السکون اسپتال کراچی میں 16000 مریضوں کو لایا گیا۔

جناح اسپتال نے سندھ حکومت سے فوری طور پر 600 ملین روپے گرانٹ مانگ لی ہے۔ صوبے میں خطرناک حد کینسر کے کیسز سامنے آنے پر عدالت نے تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ایسی صورتحال پر قابو پانے کیلئے جنگی بنیادوں پر قابو پایا جائے۔ عدالت نے ہدایت کی گٹکے پر پابندی سے متعلق فوری قانون سازی کی جائے۔ عدالت نے جناح اسپتال کیلئے فوری اسپیشل فنڈ جاری بھی کرنے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے سندھ حکومت کو فوری طور پر جناح اسپتال اور ایس آئی یو ٹی کے ماہر ڈاکٹرز پر مشتمل کینسر اتھارٹی بنانے کا بھی حکم دے دیا۔
خبر کا کوڈ : 823683
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے