0
Monday 28 Oct 2019 18:36

شدت پسندانہ سوچ بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، طاہر اشرفی

شدت پسندانہ سوچ بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،  طاہر اشرفی
اسلام ٹائمز۔ چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ انتہا و شدت پسندانہ سوچ بین المذاہب ہم آہنگی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اقوام اور معاشروں کے درمیان اخوت و رواداری کیلئے بین المذاہب مکالمہ وقت کی اہم ضرورت ہے، نائن الیون کے بعد جس طرح دنیا کو تہذیبوں کے ٹکرائو کی جانب دھکیلا گیا اس سے بین المذاہب مکالمے کیلئے کی جانیوالی کوششوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، اسلام سمیت تمام مذاہب کی اکابر شخصیات حالات کی ستم ظریفی کے باجود چٹان کی طرح کھڑی رہیں اور انہوں نے بین المذاہب ہم آہنگی کا علم بلند رکھا اور آج بھی دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں، پاکستان میں مذاہب کے درمیان رواداری اور ہاہمی احترام کی صورتحال خطے میں دیگر ممالک کی نسبت زیادہ بہتر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں مختلف اضلاع کے عہدیداروں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

حافظ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ اس وقت پوری دنیا مسلم اور غیر مسلم دنیا میں تقسیم نظر آ رہی ہے اسلام دشمن قوتوں نے اسلامو فوبیا سے ذرائع اسلام اور مسلمانوں کیخلاف دیگر اقوام اور معاشروں میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی۔ سانحہ کرائسٹ چرچ اس کی بد ترین مثال ہے، مغربی دنیا کے بعض رہنمائوں نے اتنے بڑے سانحے کو دہشتگردی کا نام دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسلام کا حقیقی چہرہ اقوام عالم کے سامنے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرتے ہوئے انہیں آئینہ دکھایا ہے، اگر مغرب دوہرا معیار ترک کر دے تو بات بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب بڑھ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام عالم کو یہ بات اچھی طرح جان لینے چاہیے کہ مذاہب کے درمیان رواداری، ہم آہنگی اور باہمی احترام ہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو امن کی طرف لے جا سکتا ہے، ایک دوسرے کیخلاف نفرت اور پروپیگنڈے کی فضا سے فساد کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔
خبر کا کوڈ : 824382
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے