0
Thursday 31 Oct 2019 00:36

منحوس صیہونی رژیم کی ہٹ لسٹ میں موجود خفیہ نام فاش

منحوس صیہونی رژیم کی ہٹ لسٹ میں موجود خفیہ نام فاش
اسلام ٹائمز۔ فلسطینی ذرائع کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل سے چھپنے والے عبری زبان کے اخبار یورشلم پوسٹ نے اسرائیلی فوج کے ایک اعلی افسر سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایرانی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی، حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ اور فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی کے ایک شعبے کے کمانڈر بہاء ابو العطاء اسرائیل کے اہمترین دشمن ہیں جنکے نام اسرائیلی ہٹ لسٹ میں سرفہرست ہیں۔ اس صیہونی اخبار کا لکھنا تھا کہ مختلف محاذوں پر اسرائیل کو بہت سے بیرونی دشمنوں کا سامنا ہے جن کے بارے میں مسلسل وارننگز ملتی رہتی ہیں۔

اسرائیلی اخبار یورشلم پوسٹ کے مطابق ایرانی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا نام اسرائیلی رژیم کی اس ہٹ لسٹ پر سب سے پہلے ہے کیونکہ جنرل قاسم سلیمانی ایک غیر معمولی کمانڈر ہیں۔ اس اخبار کا لکھنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی نے سال 1997ء سے ایرانی قدس بریگیڈ کی کمانڈ سنبھالی تھی جبکہ کچھ عرصہ قبل تک عام لوگ انہیں نہیں جانتے تھے۔ صیہونی اخبار نے لکھا کہ اسرائیلی فوج نے جنرل قاسم سلیمانی کے نام کو اپنی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر قرار دے رکھا ہے اس لئے کہ وہ اسرائیل کے نمبر ون دشمن ہیں کیونکہ وہ شام میں ایران کے قدم جمانے اور حزب اللہ کو ہدف کے عین اوپر ہٹ کرنے والے میزائلوں سے لیس کرنے ذمہ دار ہیں۔

اسرائیلی اخبار یورشلم پوسٹ اسرائیلی فوج کے ایک اعلی افسر سے نقل کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کا نام اسرائیلی ہٹ لسٹ میں دوسرے نمبر ہے کیونکہ سید حسن نصراللہ کی سربراہی کی وجہ سے حزب اللہ لبنان کی ایک مضبوط سیاسی جماعت میں تبدیل ہو چکی ہے جس کا پورے علاقے میں ایک خاص اجتماعی مقام بھی ہے۔ اسرائیلی افسر کا کہنا تھا کہ حزب اللہ سید حسن نصراللہ کی قیادت میں ایک عام عسکری گروہ سے ایک مضبوط فوج میں بدل چکی ہے جو اسرائیل پر کاری ضرب لگانے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔

خبیت صیہونی رژیم کے فوجی افسر کا کہنا تھا کہ صیہونی رژیم اسرائیل کی ہٹ لسٹ میں تیسرے نمبر پر فلسطینی مزاحمتی تحریک جہاد اسلامی کے ذیلی گروپ "القدس" کے کمانڈر بہاء ابو العطاء کا نام ہے جو غزہ میں بااثر ترین افراد میں سے ایک ہیں البتہ غزہ میں حماس زیادہ سرگرم ہے لیکن حماس کے تہران سے دور ہونے کے کچھ عرصے کے دوران یہ بہاء ابو العطاء ہی تھے جنہوں نے اس خلاء کو پُر کئے رکھا تھا۔ اسرائیلی اخبار کا لکھنا تھا کہ بہاء ابوالعطاء اسرائیل پر جوابی حملوں کی پلاننگ کرنے، جدید اسلحہ بنانے اور دور مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو فوجی اعتبار سے مضبوط کرنے کے ذمہ دار ہیں جبکہ جہادِ اسلامی حماس کے بعد غزہ کا دوسرا اہم اسلامی مزاحمتی گروپ ہے اور اسرائیلی فوج کی انٹیلیجنس ایجنسیز غزہ میں اسرائیل کیساتھ کسی بھی قسم کے تناؤ میں اضافے کا اصلی سبب جہادِ اسلامی کو ہی سمجھتی ہے۔
خبر کا کوڈ : 824794
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب