0
Wednesday 6 Nov 2019 12:49

یمن کیخلاف جنگ میں 8 ہزار سے زائد سوڈانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، یحیی سریع

یمن کیخلاف جنگ میں 8 ہزار سے زائد سوڈانی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں، یحیی سریع
اسلام ٹائمز۔ یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یمن کیخلاف جنگ میں تاحال ہلاک و زخمی ہونے والے سوڈانی فوجیوں کی تعداد 8 ہزار افراد سے زائد ہے جن میں 4 ہزار 253 ہلاک اور 4000 کے قریب زخمی و لاپتہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ تک یمن کے جنوبی صوبے تعز اور مغربی ساحلی علاقوں پر ہلاک ہونے والے سوڈانی فوجیوں کی تعداد 2 ہزار 49 تھی جبکہ باقی یمنی مقامات پر مارے جانے والے سوڈانی فوجیوں کی تعداد 185 ہے۔ یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ تازہ کارروائیوں میں 459 سوڈانی فوجی ہلاک ہوئے ہیں جس سے جاری سال 2019ء کے دوران سوڈان کے ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد 1,354 ہو گئی ہے جبکہ 400 لاپتہ فوجی اسکے علاوہ ہیں۔

یمنی فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ سوڈان پر حاکم رژیم نے اپنے فوجیوں کو ایک ایسے میدان جنگ میں جھونک دیا ہے جس میں داخل ہونے سے بہت سے ممالک کتراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی حکومت سبز باغ دکھا کر اور دھوکہ دہی کے ذریعے اپنی فوج کو یمن جنگ میں بھیج رہی ہے جو دراصل انکے خون کیساتھ تجارت ہے۔ یمنی فوج کے ترجمان نے کہا کہ یمن کیخلاف فوجی اتحاد میں شریک ہر ملک کے بارے میں ہمیں مکمل اطلاعات حاصل ہیں کہ وہ کیسے اس اتحاد میں شامل ہوا، کس حد تک اس کیساتھ تعاون کر رہا ہے اور یہ کہ اس تعاون کے عوض وہ کتنی رقم حاصل کر رہا ہے۔

یحیی سریع نے سوڈانی قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کے فوجیوں کا خون آپ کیلئے اہم نہیں؟ کیا آپ کے فوجیوں کا خون اتنی کم اہمیت کا حامل ہے کہ آپ اسکی طرف توجہ مبذول نہیں کرتے؟ انہوں نے سوڈانی قوم کو مخاطب کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ بجائے اسکے کہ آپ کی فوج آپکے ملک کا دفاع کرے، امریکی و صیہونی غاصب نظام کا دفاع کر رہی ہے۔ یحیی سریع کا کہنا تھا کہ یمن سے تاحال 6 سوڈانی بریگیڈز جنکے فوجیوں کی تعداد 6000 بنتی ہے، خارج ہوئے ہیں جبکہ 3 بریگیڈز فوج جنکے فوجیوں کی تعداد بھی 6000 ہے، تاحال سوڈان میں ہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوڈانی فوج پچھلے 2 سالوں کے دوران یمن میں بیشمار جرائم کی مرتکب ہوئی ہے جن میں ٹارچر، عصمت دری اور حبس بیجا جیسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی شامل ہیں۔
خبر کا کوڈ : 825848
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب