0
Thursday 7 Nov 2019 15:58

لوگ کہہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان بند گلی میں پھنس گئے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، مصطفیٰ کمال

لوگ کہہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان بند گلی میں پھنس گئے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، مصطفیٰ کمال
اسلام ٹائمز۔ پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ اور سابق سٹی ناظم کراچی سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وزیراعظم اپوزیشن سے بات اور آئینی تقاضے پورے کرنے کو تیار نہیں، آئین کہتا ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر مل کر معاملات حل کریں، وزیراعظم سندھ آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، بات نہیں کرتے، لوگ کہہ رہے ہیں مولانا بند گلی میں پھنس گئے جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے، لوگ مولانا صاحب کے ذریعے اپنے کام نکلواتے جارہے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ میں مصطفیٰ کمال و دیگر کیخلاف غیرقانونی الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور فریقین کو تحریری دلائل پیش کرنے کیلئے 3 دن کی مہلت دے دی۔ دوران سماعت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ کسی ہاکر کو رقم واپس ملی ہے یا ہاکرز بھی ڈمی تھے؟ جس پر پراسیکیوٹر نیب نے بتایا کہ سیکرٹری کے ذریعے رقم واپس کردی گئی تھی۔ چیف جسٹس ہائی کورٹ نے کہا کہ یہی ہوتا ہے یہاں کورنگی والوں کو واٹربورڈ کی زمین پر بٹھا دیا گیا تھا، یہاں اسی طرح غریبوں کی خدمت ہوتی ہے۔

پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہاں والوں کو بغیر ویزے کے آنے جانے دیں، سرحد بھی کھولنا چاہیئے کیونکہ لوگ بھارت جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں مولانا فضل الرحمان بند گلی میں پھنس گئے، نہیں ایسا بالکل نہیں ہے وہ بند گلی میں نہیں، لوگ مولانا صاحب کے ذریعے اپنے کام نکلواتے جارہے ہیں، مولانا فضل الرحمان موجودہ حکومت سے الیکٹورل نظام پر بات کریں اور ڈیجیٹل الیکشن پر بات منوائیں۔ کراچی کی صورتحال سے متعلق انہوں نے کہا کہ پہلے کچرا اٹھانا مسئلہ تھا اب کچرا بھول گئے ہیں، اب کتے کے کاٹے کی ویکسین مسئلہ بن گیا ہے، جب تک لوگ کھڑے نہیں ہوں گے تو مسائل حل نہیں ہوں گے۔
خبر کا کوڈ : 826103
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب