0
Saturday 9 Nov 2019 16:38

کشمیر میں ہڑتال اور بندشوں کا 92واں دن، معمولات زندگی درہم برہم

کشمیر میں ہڑتال اور بندشوں کا 92واں دن، معمولات زندگی درہم برہم
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کو آئین ہند کی دفعہ 370 اور دفعہ 35 اے کے تحت حاصل خصوصی اختیارات کی منسوخی اور ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کئے جانے کے خلاف کشمیر بھر میں آج مسلسل 70 ویں دن بھی ہڑتال رہی، جس دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے، جبکہ سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی آمد و رفت معطل رہی۔ وادی کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ خدمات گذشتہ 92 روز سے مسلسل معطل ہیں۔ ان خدمات کی معطلی سے اہلیان کشمیر خاص طور پر صحافی برادری اور طلباء و تاجروں کو سخت ترین مشکلات کا سامنا ہے۔ وادی کشمیر میں جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات بھی 5 اگست سے لگاتار معطل ہیں۔ کٹھ پتلی انتظامیہ نے وادی کشمیر میں بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کو نظربند رکھا ہے۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر نام نہاد پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق کیا گیا ہے۔
 
ادھر مزاحمتی قائدین بھی بھارت کے مختلف جیل خانوں میں قید ہیں ساتھ ہی ساتھ جموں و کشمیر کے حساس علاقوں میں جگہ جگہ پر ناکہ بندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں عوام ذہنی تناؤ کے شکار نظر آرہے ہیں۔ درایں اثنا جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ بھارت کے پاس جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن فوری طور پر بحال کرکے کشمیری عوام کا اعتماد اور بھروسہ جیتنے کا سنہری موقعہ ہے۔ این سی نے کہا کہ بھارتی حکومت کو مزید وقت ضائع کئے بغیر دفعہ 370 اور 35 اے کی منسوخی کے اقدام کو واپس لینا چاہیئے۔ این سی کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بغیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلے کے تین ماہ بعد بھی کشمیری عوام سراپا احتجاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ 370 سے متعلق بھارتی حکومت کے گمراہ کن پروپیگنڈا سے زمینی حقائق کو بدلا نہیں جاسکتا ہے۔
 
خبر کا کوڈ : 826455
رائے ارسال کرنا
آپ کا نام

آپکا ایمیل ایڈریس
آپکی رائے

منتخب